Showing posts with label انشا اللہ انشا. Show all posts
Showing posts with label انشا اللہ انشا. Show all posts

Thursday, 9 May 2024

گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں

 گاہے گاہے جو اِدھر آپ کرم کرتے ہیں 

وہ ہیں اُٹھ جاتے ہیں یہ اور ستم کرتے ہیں 

جی نہ لگ جائے کہیں تجھ سے اسی واسطے بس 

رفتہ رفتہ ترے ہم ملنے کو کم کرتے ہیں 

واقعی یوں تو ذرا دیکھیو سبحان اللہ 

تیرے دکھلانے کو ہم چشم یہ نم کرتے ہیں 

Sunday, 8 January 2017

کھول آغوش نہ تو مجھ سے رکاوٹ سے لپٹ

کھول آغوش نہ تُو مجھ سے رکاوٹ سے لپٹ
اب جو لپٹا ہے تو آ پیار کی کروٹ سے لپٹ
اس نے سر اپنا دھنا دیکھ شگافِ در سے
کر کے غش رہ گئے جو ہم اسکی چوکھٹ سے لپٹ
دھوم یہ بادہ کشوں کی ہے مۓ خانہ میں
مست جاتے ہیں صراحی کی غٹا غٹ سے لپٹ

تپش دل ہی سے ہم مل کے گلے بیٹھے ہیں

تپشِ دل ہی سے ہم مل کے گلے بیٹھے ہیں
چھیڑ مت شعلۂ گل بس کہ جلے بیٹھے ہیں
آہ کی دھونی لگا در پہ مِرے خاک نشیں
راکھ جوگی کی طرح منہ کو مَلے بیٹھے ہیں
سردی و گرمی و برسات جو ہو یا قسمت
تیری دیوار کے ہم سائے تلے بیٹھے ہیں

جس دم کہ ترے محو تجلی کو غش آیا

جس دم کہ تِرے محوِ تجلی کو غش آیا
لوگوں نے کہا کہ حضرتِ موسیٰ کو غش آیا
عکسِ رخِ ساقی سے ہوا جام جو روشن
خورشید یہ کانپا کہ مسیحا کو غش آیا
دیکھا جو ہم آغوش ہمیں اور تمہیں کل
بے خود ہو گِرا وامق و عذرا کو غش آیا

Saturday, 30 April 2016

جگر کی آگ بجھے جلد جس میں وہ شے لا

جگر کی آگ بجھے جلد جس میں وہ شے لا
لگا کے برف میں ساقی صراحیٔ مئے لا
قدم کو ہاتھ لگاتا ہوں، اٹھ کہیں گھر چل
خدا کے واسطے اتنا تو پاؤں مت پھیلا
نکل کے وادیٔ وحشت سے دیکھ اے مجنوں
کہ زور دھن میں اب آتا ہے ناقۂ لیلا

دل ستم زدہ بے تابیوں نے لوٹ لیا

دلِ ستم زدہ بے تابیوں نے لُوٹ لیا
ہمارے قِبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیا
کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
تو اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
یہ موجِ لالۂ خود رو، نسیم سے بولی
کہ کوہ و دشت کو سیرابیوں نے لوٹ لیا

Wednesday, 6 January 2016

کچھ اشارہ جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت

کچھ اشارا جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت
'ٹال کر کہنے لگے 'دن ہے ابھی، رات کے وقت
سرسری آپ کے تشریف لے آنے سے حصول
میں تو تب جانوں کہ آ جاؤ کبھی گھات کے وقت
غیر سے کرتے تھے آنکھوں میں ابھی باتیں تم
ہم بھی آ پہنچے ہیں کیا عین اشارات کے وقت

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ
ہے ورنہ کون شے مئے گلفام سے لذیذ
چٹکارے کیوں بھرے نہ زباں تیرے ذکر میں
کوئی مزہ نہیں ہے تِرے نام سے لذیذ
گالی وہ اس کی ہونٹوں کی آنکھیں دکھاتے وقت
وہ شے ہے، ہے جو پستہ و بادام سے لذیذ

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا
تس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا
تم نے تو نہیں، خیر یہ فرمائیے بارے
پھر کِن نے لیا، راحت و آرام ہمارا
میں نے جو کہا آئیے مجھ پاس، تو بولے
کیوں، کس لیے، کس واسطے، کیا کام ہمارا

Tuesday, 5 January 2016

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں
کیا جانے کس نے کس سے کیا کر لیا چمن میں
چڑھ بیٹھا یاسمیں کی گردن پہ عشق پیچاں
آیا کدھر سے کافر یہ تسمہ پا چمن میں
نالے پہ میرے نالے کرنے لگی ہے اب تو
بلبل نے یہ نکالا نخرا نیا چمن میں

کھولے جب چاند سے اس مکھڑے کا گھونگھٹ عاشق

کھولے جب چاند سے اس مُکھڑے کا گھونگھٹ عاشق
کیوں نہ پھر لیوے بلائیں تِری چٹ چٹ عاشق
نہیں معلوم اجی تم نے یہ کیا پڑھ پھُونکا
کہ تمہیں دیکھتے ہی ہو گئے ہم چٹ عاشق
مے کشی تم کرو غیروں سے بہم تو، اپنے
گھونٹ لہو کے پیئے کیوں نہ غٹاغٹ عاشق

ہے ظلم اس کو یار کیا ہم نے کیا کیا

ہے ظلم، اُس کو یار کِیا، ہم نے کیا کِیا
کیا جبر اختیار کِیا، ہم نے کیا کِیا
داغوں سے اپنے سینۂ سوزاں کو اے نسیم
یاں رشکِ نو بہار کِیا، ہم نے کیا کِیا
اس رشکِ گل کی خواہشِ بوس و کنار کو
اپنے گلے کا ہار کِیا، ہم نے کیا کِیا

Monday, 4 January 2016

دیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا

دیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا
'جب دھم سے آ کہوں گا 'صاحب سلام میرا
ہمسائے آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی
اس شہر میں ہوا جو چندے قیام میرا
جو کچھ کہ عرض کی ہے سو کر دکھاؤں گا میں
واہی نہ بات سمجھو یوں ہی کلام میرا

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا
غنچے بھی چٹ سے فق ہوئے سارے چمن نے غش کیا
نالہ بھرا جو یاد میں میں نے شمیمِ یار کی
نبضیں گلوں کی چھٹ گئیں بوئے سمن نے غش کیا
میرے تمہارے رابطے دیکھے بہم تو رشک سے
نل تو پچھاڑ کھا گرا اس کی دمن نے غش کیا

خیال کیجیے کیا آج کام میں نے کیا

خیال کیجیۓ کیا آج کام میں نے کِیا
جب اس نے دی مجھے گالی، سلام میں نے کیا
"کہا یہ صبر نے دل سے کہ "لو خدا حافظ
حقوقِ بندگی اپنا، تمام میں نے کیا
جنوں یہ آپ کی دولت، ہوا نصیب مجھے
کہ ننگ و نام کو چھوڑا، یہ نام میں نے کیا

جس شخص نے کہ اپنے نخوت کے بل کو توڑا

جس شخص نے کہ اپنے نخوت کے بل کو توڑا
راہِ خدا میں اس نے گویا جبل کو توڑا
اپنا دلِ شگفتہ تالاب کا کنول تھا
افسوس تُو نے ظالم! ایسے کنول کو توڑا
تھا ساعتِ فرنگی، دل چپ جو ہو رہا ہے
کیا جانیے کہ کس نے ہے اس کی کل کو توڑا

Saturday, 2 January 2016

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ
ہیں اس میں پڑے بندے کے دیوان کے کاغذ
اس طِفل کو بیتوں کا مِری شوق ہوا تو
محسوس ہوئے سارے گلستان کے کاغذ
ہر وصلی سرکار پہ جدول ہے طلائی
اب آپ لگے رکھنے بڑی شان کے کاغذ

شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر

شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر
دوں لگ رہی ہو جیسے گرمی میں بن کے اندر
جو چاہو تم سو کہہ لو چپ چاپ ہیں ہم ایسے
گویا زباں نہیں ہے اپنے دہن کے اندر
ق
گل سے زیادہ نازک جو دلبرانِ رعنا
ہیں بے کلی میں شبنم کے پیرہن کے اندر

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں

دھوم اتنی تِرے دیوانے مچا سکتے ہیں
کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں
مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملا سکتے ہیں
منہ تو دیکھو وہ مِرے سامنے آ سکتے ہیں
یاں و آتشِ نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹ
آگ دامانِ شفق کو بھی لگا سکتے ہیں

مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا

مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا
تو کِیا بہک کے میں نے اسے اِک سلام الٹا
سحر ایک ماش پھینکا مجھے جو دکھا کے ان نے
تو اشارا میں نے تاڑا کہ ہے لفظِ شام الٹا
یہ بلا دھواں نشہ ہے مجھے اس گھڑی تو ساقی
کہ نظر پڑے ہے سارا در و صحن و بام الٹا