کچھ اشارا جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت
'ٹال کر کہنے لگے 'دن ہے ابھی، رات کے وقت
سرسری آپ کے تشریف لے آنے سے حصول
میں تو تب جانوں کہ آ جاؤ کبھی گھات کے وقت
غیر سے کرتے تھے آنکھوں میں ابھی باتیں تم
گرچہ مے پینے سے کی توبہ ہے میں نے ساقی
بھول جاتا ہوں ولے تیری مدارات کے وقت
موسمِ عیش ہے یہ عہدِ جوانی انشاؔ
دور ہیں تیرے ابھی زہد و عبادات کے وقت
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment