Wednesday, 6 January 2016

کچھ اشارہ جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت

کچھ اشارا جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت
'ٹال کر کہنے لگے 'دن ہے ابھی، رات کے وقت
سرسری آپ کے تشریف لے آنے سے حصول
میں تو تب جانوں کہ آ جاؤ کبھی گھات کے وقت
غیر سے کرتے تھے آنکھوں میں ابھی باتیں تم
ہم بھی آ پہنچے ہیں کیا عین اشارات کے وقت
گرچہ مے پینے سے کی توبہ ہے میں نے ساقی
بھول جاتا ہوں ولے تیری مدارات کے وقت
موسمِ عیش ہے یہ عہدِ جوانی انشاؔ
دور ہیں تیرے ابھی زہد و عبادات کے وقت

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment