Wednesday, 6 January 2016

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہيں

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہيں
ہم بھی ديکھيں تو اسے ديکھ کے کيا کہتے ہيں
ہم تصور ميں بھی جو بات ذرا کہتے ہيں
سب ميں اڑ جاتی ہے ظالم اسے کيا کہتے ہیں
جو بھلے ہيں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہيں
نہ برا سنتے ہيں اچھے نہ برا کہتے ہيں
وقت ملنے کا جو پوچھا تو کہا کہہ ديں گے
غير کا حال جو پوچھا تو کہا کہتے ہيں
نہيں ملتا کسی مضمون سے ہمارا مضمون
طرز اپنی ہے جدا سب سے جدا کہتے ہيں
پہلے تو داغؔ کی تعريف ہوا کرتی تھی
اب خدا جانے وہ کيوں اس کو برا کہتے ہيں

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment