بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہيں
ہم بھی ديکھيں تو اسے ديکھ کے کيا کہتے ہيں
ہم تصور ميں بھی جو بات ذرا کہتے ہيں
سب ميں اڑ جاتی ہے ظالم اسے کيا کہتے ہیں
جو بھلے ہيں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہيں
وقت ملنے کا جو پوچھا تو کہا کہہ ديں گے
غير کا حال جو پوچھا تو کہا کہتے ہيں
نہيں ملتا کسی مضمون سے ہمارا مضمون
طرز اپنی ہے جدا سب سے جدا کہتے ہيں
پہلے تو داغؔ کی تعريف ہوا کرتی تھی
اب خدا جانے وہ کيوں اس کو برا کہتے ہيں
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment