Wednesday, 6 January 2016

یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے

یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
دبی دبی تیرے لب سے ہنسی نکلتی ہے
خوشی میں ہم نے یہ شوخی کبھی نہیں دیکھی
دمِ عتاب جو رنگت تیری نکلتی ہے
ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا ہے حاصل
دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے
سمجھ تو لیجیے کہنے تو دیجیے مطلب
بیاں سے پہلےہی مجھ پر چھری نکلتی ہے
کہا جو میں نے کہ مر جاؤں گا تو کہتے ہیں
'ہمارے زائچے میں زندگی نکلتی ہے'
سمجھنے والے سمجھتے ہیں پیچ کی تقریر
کہ کچھ نہ کچھ تیری باتوں میں فی نکلتی ہے
صنم کدے میں بھی ہے حسن اک خدائی کا
کہ جو نکلتی ہے صورت پری نکلتی ہے
مِرے نکالے نہ نکلے گی آرزو میری
جو تم نکالنا چاہو تو ابھی نکلتی ہے
غمِ فراق میں ہو داؔغ اس قدر بے تاب
ذرا سے رنج میں جاں آپ کی نکلتی ہے

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment