در در پھرتے لوگوں کو در دے مولا
بنجاروں کو بھی اپنا گھر دے مولا
جو اوروں کی خوشیوں میں خوش ہوتے ہیں
ان کا بھی گھر خوشیوں سے بھر دے مولا
ظلم و ستم ہو ختم نہ ہو دہشت گردی
امن و اماں کی یوں بارش کر دے مولا
در در پھرتے لوگوں کو در دے مولا
بنجاروں کو بھی اپنا گھر دے مولا
جو اوروں کی خوشیوں میں خوش ہوتے ہیں
ان کا بھی گھر خوشیوں سے بھر دے مولا
ظلم و ستم ہو ختم نہ ہو دہشت گردی
امن و اماں کی یوں بارش کر دے مولا
جس طرح سے پھولوں کی ڈالیاں مہکتی ہیں
میرے گھر کے آنگن میں بیٹیاں مہکتی ہیں
پھول سا بدن تیرا اس قدر معطر ہے🌼
خواب میں بھی چھو لوں تو انگلیاں مہکتی ہیں
ماں نے جو کھلائی تھیں اپنے پیارے ہاتھوں سے
ذہن میں ابھی تک وہ روٹیاں مہکتی ہیں
ہم نے ہر اک اُمید کا پُتلا جلا دیا
دُشواریوں کو پاؤں کے نیچے دبا دیا
میری تمام اُنگلیاں گھائل تو ہو گئیں
لیکن تمہاری یاد کا نقشہ مٹا دیا
میں نے تمام چھاؤں غریبوں میں بانٹ دی
اور یہ کیا کہ دُھوپ کو پاگل بنا دیا
ہم جیسے پاگل بہتیرے پھِرتے ہیں
آپ بھلا کیوں بال بکھیرے پھرتے ہیں
کاندھوں پر زُلفیں ایسے بل کھاتی ہیں
جیسے لے کر سانپ سپیرے پھرتے ہیں
چاند ستارے کیوں مجھ سے پنگا لے کر
میرے پیچھے ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں