Showing posts with label سلیم رضا ریوا. Show all posts
Showing posts with label سلیم رضا ریوا. Show all posts

Sunday, 28 December 2025

در در پھرتے لوگوں کو در دے مولا

 در در پھرتے لوگوں کو در دے مولا

بنجاروں کو بھی اپنا گھر دے مولا

جو اوروں کی خوشیوں میں خوش ہوتے ہیں

ان کا بھی گھر خوشیوں سے بھر دے مولا

ظلم و ستم ہو ختم نہ ہو دہشت گردی

امن و اماں کی یوں بارش کر دے مولا

Tuesday, 27 May 2025

جس طرح سے پھولوں کی ڈالیاں مہکتی ہیں

 جس طرح سے پھولوں کی ڈالیاں مہکتی ہیں

میرے گھر کے آنگن میں بیٹیاں مہکتی ہیں

پھول سا بدن تیرا اس قدر معطر ہے🌼

خواب میں بھی چھو لوں تو انگلیاں مہکتی ہیں

ماں نے جو کھلائی تھیں اپنے پیارے ہاتھوں سے

ذہن میں ابھی تک وہ روٹیاں مہکتی ہیں

Tuesday, 11 April 2023

ہم نے ہر اک امید کا پتلا جلا دیا

ہم نے ہر اک اُمید کا پُتلا جلا دیا

دُشواریوں کو پاؤں کے نیچے دبا دیا

میری تمام اُنگلیاں گھائل تو ہو گئیں

لیکن تمہاری یاد کا نقشہ مٹا دیا

میں نے تمام چھاؤں غریبوں میں بانٹ دی

اور یہ کیا کہ دُھوپ کو پاگل بنا دیا

Saturday, 15 October 2022

ہم جیسے پاگل بہتیرے پھرتے ہیں

ہم جیسے پاگل بہتیرے پھِرتے ہیں

آپ بھلا کیوں بال بکھیرے پھرتے ہیں

کاندھوں پر زُلفیں ایسے بل کھاتی ہیں

جیسے لے کر سانپ سپیرے پھرتے ہیں

چاند ستارے کیوں مجھ سے پنگا لے کر

میرے پیچھے ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں