Tuesday, 11 April 2023

ہم نے ہر اک امید کا پتلا جلا دیا

ہم نے ہر اک اُمید کا پُتلا جلا دیا

دُشواریوں کو پاؤں کے نیچے دبا دیا

میری تمام اُنگلیاں گھائل تو ہو گئیں

لیکن تمہاری یاد کا نقشہ مٹا دیا

میں نے تمام چھاؤں غریبوں میں بانٹ دی

اور یہ کیا کہ دُھوپ کو پاگل بنا دیا

اس کے حسیں لباس پہ اک داغ کیا لگا

سارا غرور خاک میں اس کا ملا دیا

جو زخم کھا کے بھی رہا ہے آپ کا سدا

اس دل پہ پھر سے آپ نے خنجر چلا دیا

اس نے نبھائی خوب مِری دوستی رضا

الزام قتلِ یار مجھی پر لگا دیا


سلیم رضا ریوا 

No comments:

Post a Comment