مِری اداسی، مِرے درمیان بند کرو
کوئی سلیقے سے یہ عطردان بند کرو
پڑھا رہا ہوں میں بچوں کو کربلا کا نصاب
تم اپنی تشنہ لبی کا بکھان بند کرو
ذرا سمجھنے کی کوشش کرو مِرے اشکو
وہ آج خوش ہے تم اپنی زبان بند کرو
مِری اداسی، مِرے درمیان بند کرو
کوئی سلیقے سے یہ عطردان بند کرو
پڑھا رہا ہوں میں بچوں کو کربلا کا نصاب
تم اپنی تشنہ لبی کا بکھان بند کرو
ذرا سمجھنے کی کوشش کرو مِرے اشکو
وہ آج خوش ہے تم اپنی زبان بند کرو
جنگ جتنی ہو سکے دشوار ہونی چاہیۓ
جیت حاصل ہو تو لذت دار ہونی چاہیۓ
ایک عاشق کل سلامت شہر میں دیکھا گیا
یہ خبر تو سرخیٔ اخبار ہونی چاہیۓ
کہہ رہی ہے آجکل غزلیں کسی کے عشق میں
وہ کہ جو خود زینتِ اشعار ہونی چاہیۓ
چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے
یہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے
وہ تیر بعد میں، پہلے سوال کھینچتا ہے
سوال بھی جو سماعت کی کھال کھینچتا ہے
اے پیار بانٹنے والے میں خوب جانتا ہوں
کہ کتنی دیر میں مچھوارا جال کھینچتا ہے
کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے
بغیر گلک کو توڑے سکہ نکالنا ہے
میں جانتا ہوں محبتوں کا مقام آخر
سو اس کے کمرے سے مجھ کو پنکھا نکالنا ہے
نکال پھینکی گھڑی کلائی سے اس کی دی ہوئی
اب اپنے خاطر اک آدھ گھنٹہ نکالنا ہے
اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور
کہتا ہے ہر گلاس پہ؛ بس اک 🍷 گلاس اور
خود کو کئی برس سے یہ سمجھا رہے ہیں ہم
کاٹی ہے اتنی عمر تو دو چار ماس اور
پہلے ہی کم حسین کہاں تھا تمہارا غم
پہنا دیا ہے اس کو غزل کا لباس اور
تتلی سے دوستی، نہ گلابوں کا شوق ہے
میری طرح اسے بھی کتابوں کا شوق ہے
ورنہ تو نیند سے بھی نہیں کوئی خاص ربط
آنکھوں کو صرف آپ کے خوابوں کا شوق ہے
ہم عاشقِ غزل ہیں تو مغرور کیوں نہ ہوں
آخر یہ شوق بھی تو نوابوں کا شوق ہے