Showing posts with label چراغ شرما. Show all posts
Showing posts with label چراغ شرما. Show all posts

Thursday, 21 October 2021

مری اداسی مرے درمیان بند کرو

 مِری اداسی، مِرے درمیان بند کرو

کوئی سلیقے سے یہ عطردان بند کرو

پڑھا رہا ہوں میں بچوں کو کربلا کا نصاب

تم اپنی تشنہ لبی کا بکھان بند کرو

ذرا سمجھنے کی کوشش کرو مِرے اشکو

وہ آج خوش ہے تم اپنی زبان بند کرو

Sunday, 17 October 2021

جنگ جتنی ہو سکے دشوار ہونی چاہئے

 جنگ جتنی ہو سکے دشوار ہونی چاہیۓ

جیت حاصل ہو تو لذت دار ہونی چاہیۓ

ایک عاشق کل سلامت شہر میں دیکھا گیا

یہ خبر تو سرخیٔ اخبار ہونی چاہیۓ

کہہ رہی ہے آجکل غزلیں کسی کے عشق میں

وہ کہ جو خود زینتِ اشعار ہونی چاہیۓ

چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے

 چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے

یہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے

وہ تیر بعد میں، پہلے سوال کھینچتا ہے

سوال بھی جو سماعت کی کھال کھینچتا ہے

اے پیار بانٹنے والے میں خوب جانتا ہوں

کہ کتنی دیر میں مچھوارا جال کھینچتا ہے

Saturday, 16 October 2021

کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے

 کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہے

بغیر گلک کو توڑے سکہ نکالنا ہے

میں جانتا ہوں محبتوں کا مقام آخر

سو اس کے کمرے سے مجھ کو پنکھا نکالنا ہے

نکال پھینکی گھڑی کلائی سے اس کی دی ہوئی

اب اپنے خاطر اک آدھ گھنٹہ نکالنا ہے

Monday, 5 July 2021

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور

 اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور

کہتا ہے ہر گلاس پہ؛ بس اک 🍷 گلاس اور

خود کو کئی برس سے یہ سمجھا رہے ہیں ہم

کاٹی ہے اتنی عمر تو دو چار ماس اور

پہلے ہی کم حسین کہاں تھا تمہارا غم

پہنا دیا ہے اس کو غزل کا لباس اور

Sunday, 27 June 2021

تتلی سے دوستی نہ گلابوں کا شوق ہے

 تتلی سے دوستی، نہ گلابوں کا شوق ہے

میری طرح اسے بھی کتابوں کا شوق ہے

ورنہ تو نیند سے بھی نہیں کوئی خاص ربط

آنکھوں کو صرف آپ کے خوابوں کا شوق ہے

ہم عاشقِ غزل ہیں تو مغرور کیوں نہ ہوں

آخر یہ شوق بھی تو نوابوں کا شوق ہے