چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے
یہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے
وہ تیر بعد میں، پہلے سوال کھینچتا ہے
سوال بھی جو سماعت کی کھال کھینچتا ہے
اے پیار بانٹنے والے میں خوب جانتا ہوں
کہ کتنی دیر میں مچھوارا جال کھینچتا ہے
نکل بھی سکتا ہوں قید تخیّلات سے گر
وہ شخص کھینچ لے جس کا خیال کھینچتا ہے
میں اس کے آگے نہیں کھینچتا نیام سے تیغ
وہ شیر شاہ جو دشمن کی ڈھال کھینچتا ہے
یہ سرد صبح میں سویا شرارتی سورج
بس آنکھ کھلتے ہی پریوں کی شال کھینچتا ہے
میں ہوشمند ہوں خود بھی سو میری غزلوں میں
نہ رقص کرتا ہے عاشق، نہ بال کھینچتا ہے
چراغ شرما
No comments:
Post a Comment