یہ کس طلسم کے مارے چراغ جل رہے تھے
درخت سارے سلامت تھے باغ جل رہے تھے
مِری رسائی بھی اک سببِ نارسائی بنی
کہ تیری سمت چلا تو سراغ جل رہے تھے
کہیں خوشی تھی کہ آخر کو جان چھوٹ گئی
کہیں پہ چھایا تھا ماتم کہ زاغ جل رہے تھے
یہ کس طلسم کے مارے چراغ جل رہے تھے
درخت سارے سلامت تھے باغ جل رہے تھے
مِری رسائی بھی اک سببِ نارسائی بنی
کہ تیری سمت چلا تو سراغ جل رہے تھے
کہیں خوشی تھی کہ آخر کو جان چھوٹ گئی
کہیں پہ چھایا تھا ماتم کہ زاغ جل رہے تھے
آخری کش
وہ ایک سگریٹ جس کو ہم نے
ہمارے ملنے کے آخری وقت میں پیا تھا
وہ ایک سگریٹ جس سے اٹھتے دھویں میں ہم نے
جدائی کے ان تمام غم کو جلا دیا تھا، اڑا دیا تھا
کہ جو ہمارے بدن کو اندر سے کھا رہے تھے
یہ حسرتیں بھی مِری سائیاں نکالی جائیں
کہ دشت ہی کی طرف کھڑکیاں نکالی جائیں
بہار گزری قفس ہی میں ہاؤ ہو کرتے
خزاؤں میں تو مِری بیڑیاں نکالی جائیں
یہ شام کافی نہیں ہے سیہ لباسی کو
شفق سے اور ذرا سُرخیاں نکالی جائیں
محبتوں کے نئے دائروں میں رہتا ہوں
خطوں کے متن سے اب حاشیوں میں رہتا ہوں
تمام جسم ہی آنکھیں کیۓ ہے وہ اپنا
میں ایک وقت کئی آئینوں میں رہتا ہوں
میں جان جان نچھاور ہوں اپنی مٹی پر
وہ سوچتے ہیں کہ میں سازشوں میں رہتا ہوں
تِری شبیہ کو لکھا ہے رنگ و بُو میں نے
گُلوں کی ایسے بچا لی ہے آبرُو میں نے
کتابِ زیست پہ ہے لفظ نا شناسائی
مگر یہ کیا کہ لکھا تم کو آج تُو میں نے
مجھی میں رہ کے وہ اب تک نہیں ملا مجھ کو
کہ ایک عمر سے کی جس کی جستجو میں نے
جو ایک عمر ہنسا تھا مجھے ستاتے ہوئے
وہ رو پڑا ہے مِری داستاں سناتے ہوئے
کسی کے پیار کی یہ آخری نشانی ہے
ہوا نے یہ بھی نہ سوچا دِیا بُجھاتے ہوئے
تمہیں بھی وقت کی گردش نِگل نہ جائے کہیں
ذرا خیال ہو میری ہنسی اُڑاتے ہوئے
نفرتوں کی نئی دیوار اٹھاتے ہوئے لوگ
کیا عجب لوگ ہیں زِندان بناتے ہوئے لوگ
تیرا ہر نقش مِٹاتی ہوئی یادیں تیری
اور پھر مجھ کو تِری یاد دِلاتے ہوئے لوگ
کیا خبر کس کو تِرے ہجر نے بخشی ہے نجات
جانے وہ کون تھے اشکوں میں نہاتے ہوئے لوگ