Thursday, 25 March 2021

محبتوں کے نئے دائروں میں رہتا ہوں

 محبتوں کے نئے دائروں میں رہتا ہوں

خطوں کے متن سے اب حاشیوں میں رہتا ہوں

تمام جسم ہی آنکھیں کیۓ ہے وہ اپنا

میں ایک وقت کئی آئینوں میں رہتا ہوں

میں جان جان نچھاور ہوں اپنی مٹی پر

وہ سوچتے ہیں کہ میں سازشوں میں رہتا ہوں

قدم قدم پہ بلائیں ہیں میرے حصے میں

میں خوش نصیب سدا سانحوں میں رہتا ہوں

میں خاک خاک اڑاتا ہوں اپنی مٹی کا

کہیں میں اب بھی تِری بندشوں میں رہتا ہوں


اہتمام صادق

No comments:

Post a Comment