یہی بے نام سا رشتہ بہت ہے
ہمارے واسطے اتنا بہت ہے
لُبھاتے ہیں جلاتے ہیں دلوں کو
حسینوں پر ہمیں غصہ بہت ہے
اُلجھنا بے سبب ہے نامناسب
گُزر جاؤ میاں رستہ بہت ہے
تمہارا حُسن خیرہ کُن سہی، پر
محبت سے یہ دل ڈرتا بہت ہے
زمانے کا چلن معلوم ہے سب
تماشا ہم نے بھی دیکھا بہت ہے
وصالِ یار ہو یارو! مبارک
مجھے تو ہِجر کا چسکا بہت ہے
جسے تھی مسکرانے کی تمنا
وہی آزر کہ اب روتا بہت ہے
آزر جمال
No comments:
Post a Comment