Thursday, 25 March 2021

یہی بے نام سا رشتہ بہت ہے

 یہی بے نام سا رشتہ بہت ہے

ہمارے واسطے اتنا بہت ہے

لُبھاتے ہیں جلاتے ہیں دلوں کو

حسینوں پر ہمیں غصہ بہت ہے

اُلجھنا بے سبب ہے نامناسب

گُزر جاؤ میاں رستہ بہت ہے

تمہارا حُسن خیرہ کُن سہی، پر

محبت سے یہ دل ڈرتا بہت ہے

زمانے کا چلن معلوم ہے سب

تماشا ہم نے بھی دیکھا بہت ہے

وصالِ یار ہو یارو! مبارک

مجھے تو ہِجر کا چسکا بہت ہے

جسے تھی مسکرانے کی تمنا

وہی آزر کہ اب روتا بہت ہے


آزر جمال

No comments:

Post a Comment