آپ تو آنکھ ملاتے ہوئے شرماتے ہیں
آپ تو دل کے دھڑکنے سے بھی ڈر جاتے ہیں
پھر بھی یہ ضد ہے کہ زخمِ جگر دیکھیں گے
پیار کرنا دلِ بے تاب! بُرا ہوتا ہے
سنتے آئے ہیں کہ یہ خواب بُرا ہوتا ہے
تیرا دیوانہ تِری گلیوں میں دیکھا جائے ہے
آپ کس کس کو بھلا سُولی چڑھاتے جائیں گے
اب تو سارا شہر ہی "منصور" بنتا جائے ہے
دلبروں کے بھیس میں پھرتے ہیں چوروں کے گروہ
جاگتے رہیو، کہ ان راتوں میں لُوٹا جائے ہے
ہم کو دِوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے
دِین چھڑایا، دھرم چھڑایا، دیس چھڑایا، لوگوں نے
تیری گلی میں آ نکلے تھے، دوش ہمارا اتنا تھا
پتھر مارے، تہمت باندھی، عیب لگایا، لوگوں نے
تیری لٹوں میں سو لیتے تھے بے گھر عاشق بے گھر لوگ
بوڑھے برگد! آج تجھے بھی کاٹ گرایا لوگوں نے
جسم پر باقی یہ سر ہے، کیا کروں
دستِ قاتل بے ہنر ہے، کیا کروں
چاہتا ہوں، پھونک دوں اس شہر کو
شہر میں ان کا بھی گھر ہے، کیا کروں
وہ تو سو سو مرتبہ چاہیں مجھے
میری چاہت میں کسر ہے، کیا کروں