Showing posts with label کیف بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label کیف بھوپالی. Show all posts

Friday, 14 August 2020

کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ

کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ
اب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھ
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
چلتے ہیں بچ کے شیخ و برہمن کے سائے سے
اپنا یہی عمل ہے برے آدمی کے ساتھ

Friday, 13 May 2016

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

تجھے کون جانتا تھا،۔ مِری دوستی سے پہلے
تیرا حسن کچھ نہیں تھا مِری شاعری سے پہلے
ادھر آ رقیب میرے! میں تجھے گلے لگا لوں
مِرا عشق بے مزا تھا تِری دشمنی سے پہلے
کئی انقلاب آئے، کئی خوش خراب گزرے
نہ اٹھی مگر قیامت، تِری کم سِنی سے پہلے

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں
قبیلے والوں کے دل جوڑیئے مِرے سردار
سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں
برا نہ مان،۔ اگر یار کچھ برا کہہ دے
دلوں کے کھیل میں خودداریاں نہیں چلتیں

Saturday, 30 April 2016

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

تنِ تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غمگساروں سے
انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعویداروں سے
شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
سنے کوئی، تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے
پہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے

اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہے

اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہے
دل نہیں میرا گویا ان کی راجدھانی ہے
گھاس کے گھروندے سے زور آزمائی کیا
آندھیاں بھی پگلی ہیں، برق بھی دیوانی ہے
شاید انکے دامن نے پونچھ دیں مِری آنکھیں
آج میرے اشکوں کا رنگ زعفرانی ہے

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
پھر یہ بارش مِری تنہائی چرانے آئی
زندگی باپ کی مانند سجا دیتی ہے
رحمدل ماں کی طرح موت بچانے آئی
آج کل پھر دلِ برباد کی باتیں ہیں وہی
ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ عقل ٹھکانے آئی

Monday, 9 November 2015

چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو

فلمی  گیت

چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو 
ہم ہیں تیار چلو
چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو 
ہم ہیں تیار چلو

آؤ کھو جائیں ستاروں میں کہیں
چھوڑ دیں آج یہ دنیا یہ زمیں

یہ مزاج یار کو کیا ہوا انہیں مجھ سے پیار ہے آج کل

یہ مزاج یار کو کیا ہوا انہیں مجھ سے پیار ہے آج کل
میری جستجو میری گفتگو میرا انتظار ہے آج کل
تیرے خطوط نکالنا، کبھی دیکھنا، کبھی چومنا
یہی مشغلہ، یہی سلسلہ، یہی کاروبار ہے آج کل
نہ اکیلا گھر سے نکل میاں ذرا دیکھ بھال کے چل میاں
بڑی ابتری، بڑی رہزنی، بڑی لوٹ مار ہے آج کل

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے
تُو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دے
جس دن مِری جبیں کسی دہلیز پر جھکے
اس دن خدا شگاف مِرے سر میں ڈال دے
اللہ، تیرے ساتھ ہے، ملاح کو نہ دیکھ
یہ ٹوٹی پھوٹی ناؤ سمندر میں ڈال دے

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے
میرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے
سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شبِ وعدہ
جانے تِرے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے
سچ ہے کہ محبت میں ہمیں موت نے مارا
کچھ اس میں تمہاری بھی خطا ہے کہ نہیں ہے

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے
ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے
ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے
وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے
خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا
کیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے

Monday, 17 August 2015

آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے

آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے 
تیرِ نظر دیکھیں گے زخمِ جگر دیکھیں گے
آپ تو آنکھ ملاتے ہوئے شرماتے ہیں
آپ تو دل کے دھڑکنے سے بھی ڈر جاتے ہیں
پھر بھی یہ ضد ہے کہ زخمِ جگر دیکھیں گے
پیار کرنا دلِ بے تاب! بُرا ہوتا ہے
سنتے آئے ہیں کہ یہ خواب بُرا ہوتا ہے

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے 
تیرا دیوانہ تِری گلیوں میں دیکھا جائے ہے 
آپ کس کس کو بھلا سُولی چڑھاتے جائیں گے
اب تو سارا شہر ہی "منصور" بنتا جائے ہے
دلبروں کے بھیس میں پھرتے ہیں چوروں کے گروہ
جاگتے رہیو، کہ ان راتوں میں لُوٹا جائے ہے 

ہم کو دیوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے

ہم کو دِوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے
دِین چھڑایا، دھرم چھڑایا، دیس چھڑایا، لوگوں نے 
تیری گلی میں آ نکلے تھے، دوش ہمارا اتنا تھا
پتھر مارے، تہمت باندھی، عیب لگایا، لوگوں نے 
تیری لٹوں میں سو لیتے تھے بے گھر عاشق بے گھر لوگ
بوڑھے برگد! آج تجھے بھی کاٹ گرایا لوگوں نے 

جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں

جسم پر باقی یہ سر ہے، کیا کروں
دستِ قاتل بے ہنر ہے، کیا کروں 
چاہتا ہوں، پھونک دوں اس شہر کو
شہر میں ان کا بھی گھر ہے، کیا کروں 
وہ تو سو سو مرتبہ چاہیں مجھے
میری چاہت میں کسر ہے، کیا کروں