Friday, 14 August 2020

کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ

کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ
اب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھ
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
چلتے ہیں بچ کے شیخ و برہمن کے سائے سے
اپنا یہی عمل ہے برے آدمی کے ساتھ
شائستگان شہر مجھے خواہ کچھ کہیں
سڑکوں کا حسن ہے مِری آوارگی کے ساتھ
شاعر حکایتیں نہ سنا، وصل و عشق کی
اتنا بڑا مذاق نہ کر شاعری کے ساتھ
لکھتا ہے غم کی بات مسرت کے موڈ میں
مخصوص ہے یہ طرز فقط کیف ہی کے ساتھ

کیف بھوپالی

No comments:

Post a Comment