چاہے جس چاک پر گُھماؤ مجھے
تم مِرا آئینہ بناؤ مجھے
ڈُوب سکتی نہیں مِری آواز
لگنے والا نہیں یہ گھاؤ مجھے
ورنہ دل میں اُتر بھی سکتا ہوں
پہلی فُرصت میں بُھول جاؤ مجھے
چاہے جس چاک پر گُھماؤ مجھے
تم مِرا آئینہ بناؤ مجھے
ڈُوب سکتی نہیں مِری آواز
لگنے والا نہیں یہ گھاؤ مجھے
ورنہ دل میں اُتر بھی سکتا ہوں
پہلی فُرصت میں بُھول جاؤ مجھے
ساری دنیا کو تماشا نہ بنا، سامنے آ
میری وحشت کے پسندیدہ خدا، سامنے آ
میرے دشمن نے مجھے خط میں گزارش کی ہے
درگُزر چھوڑ کے شمشیر اٹھا، سامنے آ
ہم نے جوکر کو بھی سرکس میں پُکارا ایسے
روتی آنکھوں کو ہنسانے کی دعا، سامنے آ
خزاں کا پھول بھی کھلنے لگا ہے میرے پاس
عجیب طرز کی آب و ہوا ہے میرے پاس
جدید شعر اسی واسطے کہے میں نے
پرانے لوگ، نیا تجربہ ہے میرے پاس
یہ اور بات کہ میں خوش مزاج ہوں، ورنہ
اداس رہنے کو سب کچھ پڑا ہے میرے پاس
رائیگانی کی ریاضت بھی نہیں کر سکتا
ٹوٹے رشتوں کی مرمت بھی نہیں کر سکتا
گھر کی رونق کا سبب ہوتے ہیں بچے، یعنی
شور ہونے پہ شکایت بھی نہیں کر سکتا
جس طرح میں نے تِرے نام کیا ہے سب کچھ
اس طرح کوئی وصیت بھی نہیں کر سکتا
بنا خُوشبو کے ہم نے گُل کھلایا
خدا جانے اسے کس نے بتایا
ہمارے خواب سب سے قیمتی ہیں
تِری آنکھوں سے اندازہ لگایا
یہ کس مٹی میں آخر بیج بوئے
کہاں آ کر مجھے تُو نے اُگایا
خوف نے جب دستک کے لہجے پہنے تھے
جانے کس نے کس کے جوتے پہنے تھے
جس دن سے اسکول کا رستہ دیکھا تھا
ماں نے خواب اور ہم نے بستے پہنے تھے
جن پر جنگل صاف دکھائی دیتا تھا
دیواروں نے ایسے پردے پہنے تھے
سلامتی کی دعا کا ثمر بنا ہوا ہے
تمہارے باغ کا پودا شجر بنا ہوا ہے
وہ جس کے واسطے پھولوں کا اہتمام ہوا
فضائے دل سے وہی بے خبر بنا ہوا ہے
ملے جو کوئی مجھے دل چرانے لگ جائے
تمام شہر تِرا جادوگر بنا ہوا ہے
میں تو سمجھا تھا کہ ہموار ہوا جاتا ہے
راستہ اور بھی دشوار ہوا جاتا ہے
تیرے ہونے سے فقط میں ہی نہیں روشن ہوں
یہ اندھیرا بھی چمکدار ہوا جاتا ہے
اشک بھی آنکھ میں ہے قید کسی جِن کی طرح
دل کو رگڑیں تو نمودار ہوا جاتا ہے
ضرورت سے زیادہ جی رہا ہے
ادھُورا شخص پورا جی رہا ہے
ہے بارش کی مسلسل مہربانی
مِرے صحرا میں دریا جی رہا ہے
در و دیوار سانسیں لے رہے ہیں
تبھی کمرے کا پردہ جی رہا ہے
کوئی جگنو کوئی تارا★ نہیں آیا اب تک
ہم نے جس جس کو پکارا، نہیں آیا اب تک
روشنی آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والی
اس تعلق کا کنارا نہیں آیا اب تک💞
دل اسی واسطے روشن ہے مرے سینے میں
ڈوب جانے کا اشارا نہیں آیا اب تک
کب محبت سے دیکھتے ہیں مجھے
سب ضرورت سے دیکھتے ہیں مجھے
💥نیند کے ساتھ میرا جھگڑا ہے
خواب حسرت سے دیکھتے ہیں مجھے
میری باتوں میں کیسی خوشبو ہے
پھول حیرت سے دیکھتے ہیں مجھے