Showing posts with label شعیب زمان. Show all posts
Showing posts with label شعیب زمان. Show all posts

Monday, 23 October 2023

چاہے جس چاک پر گھماؤ مجھے

 چاہے جس چاک پر گُھماؤ مجھے

تم مِرا آئینہ بناؤ مجھے

ڈُوب سکتی نہیں مِری آواز

لگنے والا نہیں یہ گھاؤ مجھے

ورنہ دل میں اُتر بھی سکتا ہوں

پہلی فُرصت میں بُھول جاؤ مجھے

Saturday, 23 September 2023

ساری دنیا کو تماشا نہ بنا سامنے آ

 ساری دنیا کو تماشا نہ بنا، سامنے آ

میری وحشت کے پسندیدہ خدا، سامنے آ

میرے دشمن نے مجھے خط میں گزارش کی ہے

درگُزر چھوڑ کے شمشیر اٹھا، سامنے آ

ہم نے جوکر کو بھی سرکس میں پُکارا ایسے

روتی آنکھوں کو ہنسانے کی دعا، سامنے آ

Wednesday, 20 October 2021

خزاں کا پھول بھی کھلنے لگا ہے میرے پاس

 خزاں کا پھول بھی کھلنے لگا ہے میرے پاس

عجیب طرز کی آب و ہوا ہے میرے پاس

جدید شعر اسی واسطے کہے میں نے

پرانے لوگ، نیا تجربہ ہے میرے پاس

یہ اور بات کہ میں خوش مزاج ہوں، ورنہ

اداس رہنے کو سب کچھ پڑا ہے میرے پاس

Monday, 21 June 2021

رائیگانی کی ریاضت بھی نہیں کر سکتا

 رائیگانی کی ریاضت بھی نہیں کر سکتا

ٹوٹے رشتوں کی مرمت بھی نہیں کر سکتا

گھر کی رونق کا سبب ہوتے ہیں بچے، یعنی

شور ہونے پہ شکایت بھی نہیں کر سکتا

جس طرح میں نے تِرے نام کیا ہے سب کچھ

اس طرح کوئی وصیت بھی نہیں کر سکتا

Monday, 24 May 2021

بنا خوشبو کے ہم نے گل کھلایا

 بنا خُوشبو کے ہم نے گُل کھلایا

خدا جانے اسے کس نے بتایا

ہمارے خواب سب سے قیمتی ہیں

تِری آنکھوں سے اندازہ لگایا

یہ کس مٹی میں آخر بیج بوئے

کہاں آ کر مجھے تُو نے اُگایا

Thursday, 18 February 2021

خوف نے جب دستک کے لہجے پہنے تھے

 خوف نے جب دستک کے لہجے پہنے تھے

جانے کس نے کس کے جوتے پہنے تھے

جس دن سے اسکول کا رستہ دیکھا تھا

ماں نے خواب اور ہم نے بستے پہنے تھے

جن پر جنگل صاف دکھائی دیتا تھا

دیواروں نے ایسے پردے پہنے تھے

Wednesday, 17 February 2021

سلامتی کی دعا کا ثمر بنا ہوا ہے

 سلامتی کی دعا کا ثمر بنا ہوا ہے 

تمہارے باغ کا پودا شجر بنا ہوا ہے 

وہ جس کے واسطے پھولوں کا اہتمام ہوا 

فضائے دل سے وہی بے خبر بنا ہوا ہے 

ملے جو کوئی مجھے دل چرانے لگ جائے 

تمام شہر تِرا جادوگر بنا ہوا ہے 

Monday, 25 January 2021

میں تو سمجھا تھا کہ ہموار ہوا جاتا ہے

 میں تو سمجھا تھا کہ ہموار ہوا جاتا ہے

راستہ اور بھی دشوار ہوا جاتا ہے

تیرے ہونے سے فقط میں ہی نہیں روشن ہوں

یہ اندھیرا بھی چمکدار ہوا جاتا ہے

اشک بھی آنکھ میں ہے قید کسی جِن کی طرح

دل کو رگڑیں تو نمودار ہوا جاتا ہے

Sunday, 24 January 2021

ضرورت سے زیادہ جی رہا ہے

 ضرورت سے زیادہ جی رہا ہے 

ادھُورا شخص پورا جی رہا ہے 

ہے بارش کی مسلسل مہربانی 

مِرے صحرا میں دریا جی رہا ہے 

در و دیوار سانسیں لے رہے ہیں 

تبھی کمرے کا پردہ جی رہا ہے 

Saturday, 12 December 2020

کوئی جگنو کوئی تارا نہیں آیا اب تک

 کوئی جگنو کوئی تارا★ نہیں آیا اب تک

ہم نے جس جس کو پکارا، نہیں آیا اب تک

روشنی آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والی

اس تعلق کا کنارا نہیں آیا اب تک💞

دل اسی واسطے روشن ہے مرے سینے میں

ڈوب جانے کا اشارا نہیں آیا اب تک

Saturday, 28 November 2020

کب محبت سے دیکھتے ہیں مجھے

 کب محبت سے دیکھتے ہیں مجھے

سب ضرورت سے دیکھتے ہیں مجھے

💥نیند کے ساتھ میرا جھگڑا ہے

خواب حسرت سے دیکھتے ہیں مجھے

میری باتوں میں کیسی خوشبو ہے

پھول حیرت سے دیکھتے ہیں مجھے