خزاں کا پھول بھی کھلنے لگا ہے میرے پاس
عجیب طرز کی آب و ہوا ہے میرے پاس
جدید شعر اسی واسطے کہے میں نے
پرانے لوگ، نیا تجربہ ہے میرے پاس
یہ اور بات کہ میں خوش مزاج ہوں، ورنہ
اداس رہنے کو سب کچھ پڑا ہے میرے پاس
تمام لوگ جسے دل کا نام دیتے ہیں
اندھیری شب میں وہی اک دیا ہے میرے پاس
کسی کو دل میں بسایا کسی کو آنکھوں میں
ہر ایک شخص کی اپنی جگہ ہے میرے پاس
شعیب زمان
No comments:
Post a Comment