Wednesday, 20 October 2021

بیکسی میں جو یاد گھر آیا

 بے کسی میں جو یاد گھر آیا

آنکھ کے ساتھ دل بھی بھر آیا

میری منزل نہ تیرا گھر آیا

میرے حصے میں بس سفر آیا

اک پری وش خیال پر آیا

ایک سایہ سا مجھ میں در آیا

میں نے بیعت سے کر دیا انکار

اب کے نیزے پہ میرا سر آیا

زندگی جب زوال پر آئی

فن مِرا تب عروج پر آیا

خون دل سے ادھر غزل لکھی

نقش تیرا ادھر ابھر آیا

شیش محلوں کے بھی مقدر میں

آخرش دیکھیۓ کھنڈر آیا

خود کلامی مسیح جان بنی

کوئی مونس نہ چارہ گر آیا

ایک بس دل ہی تھا مِرا اپنا

جو تِرے راستے میں دھر آیا

کب ملا مجھ کو سنگ میل تِرا

میں ہر اک راہ سے گزر آیا

در تھا امید کا کھلا حسان

صبح کا بھولا شام گھر آیا


حسان عارفی

No comments:

Post a Comment