کتنا بے کار بنا رکھا ہے
مجھ کو اخبار بنا رکھا ہے
عشق ہے وہ دوا میرے ہمدم
جس نے بیمار بنا رکھا ہے
فاصلہ جو کشش کا حامل تھا
ہم نے ہر بار بنا رکھا ہے
تیری یادوں کے جگنووں کا کرم
دل کو دربار بنا رکھا ہے
ان نگاہوں کے بانکپن نے مجھے
کتنا لاچار بنا رکھا ہے
لامعہ شمس
No comments:
Post a Comment