Showing posts with label حنیف اخگر. Show all posts
Showing posts with label حنیف اخگر. Show all posts

Sunday, 21 December 2025

نعت سنی تو جل اٹھا ایک دیا بجھا ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل مِرا بے بساط تھا ایک دِیا بُجھا ہوا

نعت سنی تو جل اُٹھا ایک دیا بجھا ہوا

شہرِ نبیؐ سے رخصت اور روح کا جسم میں قیام

طاق میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا

آئینۂ رسولﷺ میں خود کو جو دیکھنے گیا

نور کا عکس بن گیا ایک دیا بجھا ہوا

Friday, 6 September 2024

تصور در کعبہ میں وہ مزا ہے کہ بس

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تصوّرِ درِ کعبہ میں وہ مزا ہے کہ بس

وہ لطفِ سجدہ مدینے میں آ گیا ہے کہ بس

نظر میں ہے کوئی عالم نہ کوئی منظر اور

مدینہ آنکھوں میں ایسا بسا ہوا ہے کہ بس

نبیؐ کے در پہ مسرّت کے آنسوؤں کے سوا

وہ سیلِ اشکِ ندامت کا سلسلہ ہے کہ بس

Sunday, 27 February 2022

دیکھو تمہیں جھگڑے کی شروعات کرو ہو

 دیکھو تمہیں جھگڑے کی شروعات کرو ہو

پھر مجھ سے وہی ٹیڑھے سوالات کرو ہو

کرنے کو تو جینے کی مِرے بات کرو ہو

سچ یہ ہے کہ تم موت کو بھی مات کرو ہو

معلوم نہیں کیسے بسر رات کرو ہو

آنکھوں سے یہ لگتا ہے کہ برسات کرو ہو

Saturday, 3 April 2021

تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو

 تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھُلا دو

پھر خود ہی مجھے ترکِ محبت کی سزا دو

ہمت ہے تو پھر سارا سمندر ہے تمہارا

ساحل پہ پہنچ جاؤ تو کشتی کو جلا دو

اقرارِ محبت ہے، نہ انکار محبت

تم چاہتے کیا ہو ہمیں اتنا تو بتا دو

Friday, 2 April 2021

بن کے خوشبو وہ بسا ہے مجھ میں

 بن کے خوشبو وہ بسا ہے مجھ میں

ہر نفس موجِ صبا ہے مجھ میں

ہے تصور میں کوئی مست خرام

اک قیامت سی بپا ہے مجھ میں

طاقتِ جنبشِ پا ہو کہ نہ ہو

ہمتِ لغزشِ پا ہے مجھ میں

Friday, 8 January 2021

پلکوں پہ دل کا رنگ فروزاں نہیں رہا

 پلکوں پہ دل کا رنگ فروزاں نہیں رہا

اب ایک بھی دِیا سرِ مِژگاں نہیں رہا

قلبِ گداز و دیدۂ تر تو ہے اپنے پاس

میں شاد ہوں کہ بے سروساماں نہیں رہا

آنکھوں میں جل اٹھے ہیں دِیے انتظار کے

احساسِ ظلمتِ شبِ ہجراں نہیں رہا

Wednesday, 6 January 2021

شکستہ دل کسی کا ہو ہم اپنا دل سمجھتے ہیں

 شکستہ دل کسی کا ہو ہم اپنا دل سمجھتے ہیں

ترے غم میں زمانے بھر کے غم شامل سمجھتے ہیں

ہوئی ہیں اس قدر آسانیوں سے مشکلیں پیدا

ہر آسانی کو ہم اپنی جگہ مشکل سمجھتے ہیں

وہ خود دیکھے مگر اس کو کوئی نہ دیکھنے پائے

ترا انداز ہم اے پردۂ حائل سمجھتے ہیں

Saturday, 26 December 2020

اس طرح عہد تمنا کو گزارے جائیے

 اس طرح عہدِ تمنا کو گزارے جائیے

ان کو خاموشی کے لہجے میں پکارے جائیے

عشق کا منصب نہیں آوازۂ لفظ و بیاں

آنکھوں ہی آنکھوں میں ہر اک شکوہ گزارے جائیے

دیکھیے رسوا نہ ہو جائے کہیں رسم جنوں

اپنے دیوانے کو اک پتھر تو مارے جائیے

حال مریض عشق ہے بیکار دیکھنا

 حالِ مریضِ عشق ہے بیکار دیکھنا

جائے گا جان لے کے یہ آزار دیکھنا

تابِ نگاہِ طالبِ دیدار دیکھنا

پردہ اٹھا تو ہو گیا دشوار دیکھنا

بن کر غبارِ سایۂ دیوار اٹھ گیا

یا  گر گئی وہ ریت کی دیوار دیکھنا

Friday, 25 December 2020

یادوں کا شہر دل میں چراغاں نہیں رہا

 یادوں کا شہرِ دل میں چراغاں نہیں رہا

کیا کوئی غم ہی شعلہ بداماں نہیں رہا

اب اعترافِ عہدِ وفور کر رہے ہیں وہ

جب اعتبارِ عمرِ گریزاں نہیں رہا

نکلے کچھ اور آبلہ پائی کی اب سبیل

صحرا میں کوئی خارِ مغیلاں نہیں رہا