Wednesday, 6 January 2021

شکستہ دل کسی کا ہو ہم اپنا دل سمجھتے ہیں

 شکستہ دل کسی کا ہو ہم اپنا دل سمجھتے ہیں

ترے غم میں زمانے بھر کے غم شامل سمجھتے ہیں

ہوئی ہیں اس قدر آسانیوں سے مشکلیں پیدا

ہر آسانی کو ہم اپنی جگہ مشکل سمجھتے ہیں

وہ خود دیکھے مگر اس کو کوئی نہ دیکھنے پائے

ترا انداز ہم اے پردۂ حائل سمجھتے ہیں

کسی کا ہاتھ زخموں پر کسی کا ہاتھ گردن میں

مسیحا کون ہے اور کون ہے قاتل سمجھتے ہیں

حد دل سے تو باہر درد تیرا ہو نہیں سکتا

جہاں تک درد ہے تیرا وہاں تک دل سمجھتے ہیں

مجال دید کی مہلت نہ دیں لیکن یہ کیا کم ہے

وہ ہم کو اپنی بزم ناز کے قابل سمجھتے ہیں

تعین حسن مقصد کا نہیں اس کے سوا کوئی

ٹھہر جائیں جہاں ہم بس اسے منزل سمجھتے ہیں

کہاں تک ہم مسلسل رخ بدلتے جائیں کشتی کا

وہی طوفاں نکلتا ہے جسے ساحل سمجھتے ہیں

انہیں فرصت کہاں یہ بھی غنیمت جانئے اخگر

کہ وہ دل کو کسی تعزیر کے قابل سمجھتے ہیں


حنیف اخگر

No comments:

Post a Comment