Thursday, 7 January 2021

امیر ہو نہ سکا میں امیر ہو کر بھی

 امیر ہو نہ سکا میں، امیر ہو کر بھی

کہ زُلفِ یار کو ترسا اسِیر ہو کر بھی

ہے مال و دولت و اسباب کی چمک ایسی

بہک گئے ہیں کئی، با ضمِیر ہو کر بھی

وہاں کے خیموں میں کچھ دوست دِکھ رہے ہیں مجھے

جوابی وار نہیں ہو گا، تیر ہو کر بھی

میں خوش لباس سہی، ہوں مگر بہت گدلا

وہ آئینہ ہے، بظاہر فقیر ہو کر بھی

اکڑ کے رکھتے ہیں گردن کو کس غرور کے ساتھ

یہ بے وقوف فنا کا خمیر ہو کر بھی

جوان کیا ہیں فقط پھول کاغذی ہیں یہ

بہت جوانوں سے اچھا ہوں پِیر ہو کر بھی

رشید، ان کے قدم چومنا مِرا اعزاز 

رہے جو سادہ، سراج المنیر ہو کر بھی


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment