Thursday, 7 January 2021

جلا جلا کے دیے پاس پاس رکھتے ہیں

 جلا جلا کے دیے پاس پاس رکھتے ہیں

ہم اپنے آپ کو اکثر اداس رکھتے ہیں

گلوں کا رنگ پھلوں کی مٹھاس رکھتے ہیں

کچھ آدمی بھی شجر کا لباس رکھتے ہیں

انہیں بھی خالی گلاسوں کا ٹوٹنا ہے پسند

ضرور وہ بھی کوئی زخم یاس رکھتے ہیں

جو لوگ نیک تھے شبنم سے ہو گئے سیراب

وہ کیا کریں جو سمندر کی پیاس رکھتے ہیں

سکوت آب پہ کنکر اچھال کر خوش تھے

اب آج پانی پہ گھر کی اساس رکھتے ہیں

جنہوں نے ابر کے سائے کبھی نہیں دیکھے

وہ ریگزار بھی پھولوں کی آس رکھتے ہیں

ہوس کی ناؤ بدن کے بھنور میں ڈوب گئی

ہم ایسے اور کئی اقتباس رکھتے ہیں 


ہوش جونپوری

(اصغر مہدی ہوش)

No comments:

Post a Comment