Showing posts with label حیرت شملوی. Show all posts
Showing posts with label حیرت شملوی. Show all posts

Wednesday, 31 March 2021

دل کہہ رہا ہے ان کی نظر دیکھتے ہوئے

 دل کہہ رہا ہے ان کی نظر دیکھتے ہوئے

دیکھیں گے کیا اِدھر وہ اُدھر دیکھتے ہوئے

اُمید تھی کسے کہ گُزر جائیں گے یہ دن

دل پر وفُورِ غم کا اثر دیکھتے ہوئے

اپنا تو حال یہ ہے کہ اک عُمر کٹ گئی

دُنیائے دل کو زیر و زبر دیکھتے ہوئے

Tuesday, 30 March 2021

عاشقی کی حکایتیں ہیں اور

 عاشقی کی حکایتیں ہیں اور

عام لیکن روایتیں ہیں اور

ہے تو اوروں پر بھی کرم اُن کا

ہم پہ لیکن عنایتیں ہیں اور

اک نظر دیکھ بھی لیا تو کیا

غمِ دل کی رعایتیں ہیں اور

Monday, 29 March 2021

اگرچہ عہد جنوں کی حکایتیں ہیں اور

 اگرچہ عہدِ جنوں کی حکایتیں ہیں اور

زبانِ خلق پہ لیکن روایتیں ہیں اور

توجہات تو ہیں ان کی دوسری پر بھی

ہمارے حال پہ لیکن عنایتیں ہیں اور

یہی نہیں کہ اُٹھائی نگاہ، دیکھ لیا

کسی غریب کے دل کی رعایتیں ہیں اور

Sunday, 28 March 2021

بلائیں لوٹتی ہیں جب کہیں سے

بلائیں لَوٹتی ہیں جب کہیں سے

تو بسم اللہ ہوتی ہے ہمیں سے

ابھی سے چاک ہوتے جا رہے ہیں

کہیں سے جیب اور دامن کہیں سے

جنوں کا ہے یہی عالم تو کب تک

گریباں کا تعلق آستیں سے

اک تو خود اپنی غمگینی

 اک تو خود اپنی غمگینی

اس پر ان کی نکتہ چینی

اپنی شیرینی بھی تلخی

ان کی تلخی بھی شیرینی

کھُل جائے گا یہ بھی اک دن

کس نے کس کی راحت چھینی