دل کہہ رہا ہے ان کی نظر دیکھتے ہوئے
دیکھیں گے کیا اِدھر وہ اُدھر دیکھتے ہوئے
اُمید تھی کسے کہ گُزر جائیں گے یہ دن
دل پر وفُورِ غم کا اثر دیکھتے ہوئے
اپنا تو حال یہ ہے کہ اک عُمر کٹ گئی
دُنیائے دل کو زیر و زبر دیکھتے ہوئے
دل کہہ رہا ہے ان کی نظر دیکھتے ہوئے
دیکھیں گے کیا اِدھر وہ اُدھر دیکھتے ہوئے
اُمید تھی کسے کہ گُزر جائیں گے یہ دن
دل پر وفُورِ غم کا اثر دیکھتے ہوئے
اپنا تو حال یہ ہے کہ اک عُمر کٹ گئی
دُنیائے دل کو زیر و زبر دیکھتے ہوئے
عاشقی کی حکایتیں ہیں اور
عام لیکن روایتیں ہیں اور
ہے تو اوروں پر بھی کرم اُن کا
ہم پہ لیکن عنایتیں ہیں اور
اک نظر دیکھ بھی لیا تو کیا
غمِ دل کی رعایتیں ہیں اور
اگرچہ عہدِ جنوں کی حکایتیں ہیں اور
زبانِ خلق پہ لیکن روایتیں ہیں اور
توجہات تو ہیں ان کی دوسری پر بھی
ہمارے حال پہ لیکن عنایتیں ہیں اور
یہی نہیں کہ اُٹھائی نگاہ، دیکھ لیا
کسی غریب کے دل کی رعایتیں ہیں اور
بلائیں لَوٹتی ہیں جب کہیں سے
تو بسم اللہ ہوتی ہے ہمیں سے
ابھی سے چاک ہوتے جا رہے ہیں
کہیں سے جیب اور دامن کہیں سے
جنوں کا ہے یہی عالم تو کب تک
گریباں کا تعلق آستیں سے
اک تو خود اپنی غمگینی
اس پر ان کی نکتہ چینی
اپنی شیرینی بھی تلخی
ان کی تلخی بھی شیرینی
کھُل جائے گا یہ بھی اک دن
کس نے کس کی راحت چھینی