اس نے جب پاؤں نئیں اتارا تھا
جھیل کا پانی کتنا کھارا تھا
میٹھا بٹنا تھا اس کے ہاتھوں سے
ہم نے بھوکے ہی دن گزارا تھا
جتنا وہ شخص خوبصورت ہے
دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟
اس نے جب پاؤں نئیں اتارا تھا
جھیل کا پانی کتنا کھارا تھا
میٹھا بٹنا تھا اس کے ہاتھوں سے
ہم نے بھوکے ہی دن گزارا تھا
جتنا وہ شخص خوبصورت ہے
دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟
دور حاضر کے منصور کچھ ایسا کر دے
اپنا مُنکر ہو جا، دار کو رُسوا کر دے
شہری سپنا کتنا مہنگا ہوتا ہے ناں
اے دیہاتی سپنے کا تُو سودا کر دے
دشت گزارا ہے میں نے آنکھوں سے لیکن
دشت کی ہمت، آنکھ کا دریا صحرا کر دے
جب مجھ پہ تیری آنکھوں کا سارا بیاں کُھلے
اس وقت جانے جان کا خیمہ کہاں کھلے
سر بستہ ہے ہزاروں برس سے جہاں کا راز
بندِ قبا تو کھول کہ مجھ پر جہاں کھلے
الفت دل خراب کو ہے تیرے بام سے
ورنہ تو ایک عرصہ ہوا بیڑیاں کھلے
جاگتی آنکھوں کا سپنا بے کار نہ ہو
سونے والے، دیکھ ابھی بیدار نہ ہو
دھوپ ہوا سے ہمسائے محروم رہیں
اتنی بھی اونچی اپنی دیوار نہ ہو
میرا دکھ بانٹے گا میرا سارا گاؤں
غمگین اس بارے میں تو بیکار نہ ہو
گماں یہ تھا محبت آفریں ہوں
مگر افسوس میں ایسا نہیں ہوں
مجھے امشب دیارِ یار لے چل
ندیما! میں بہت اندوہ گیں ہوں
مجھے دکھ جھیلنے کا حوصلہ ہے
مِرے عیسیٰ! میں فرزندِ زمیں ہوں