Showing posts with label فیاض بوستان. Show all posts
Showing posts with label فیاض بوستان. Show all posts

Thursday, 6 April 2023

اس نے جب پاؤں نئیں اتارا تھا

 اس نے جب پاؤں نئیں اتارا تھا

جھیل کا پانی کتنا کھارا تھا

میٹھا بٹنا تھا اس کے ہاتھوں سے

ہم نے بھوکے ہی دن گزارا تھا

جتنا وہ شخص خوبصورت ہے

دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟

Saturday, 1 April 2023

دور حاضر کے منصور کچھ ایسا کر دے

 دور حاضر کے منصور کچھ ایسا کر دے 

اپنا مُنکر ہو جا، دار کو رُسوا کر دے

شہری سپنا کتنا مہنگا ہوتا ہے ناں

اے دیہاتی سپنے کا تُو سودا کر دے

دشت گزارا ہے میں نے آنکھوں سے لیکن

دشت کی ہمت، آنکھ کا دریا صحرا کر دے

Friday, 31 March 2023

جب مجھ پہ تیری آنکھوں کا سارا بیاں کھلے

 جب مجھ پہ تیری آنکھوں کا سارا بیاں کُھلے

اس وقت جانے جان کا خیمہ کہاں کھلے

سر بستہ ہے ہزاروں برس سے جہاں کا راز

بندِ قبا تو کھول کہ مجھ پر جہاں کھلے

الفت دل خراب کو ہے تیرے بام سے

ورنہ تو ایک عرصہ ہوا بیڑیاں کھلے

Tuesday, 29 November 2022

جاگتی آنکھوں کا سپنا بے کار نہ ہو

جاگتی آنکھوں کا سپنا بے کار نہ ہو

سونے والے، دیکھ ابھی بیدار نہ ہو

دھوپ ہوا سے ہمسائے محروم رہیں

اتنی بھی اونچی اپنی دیوار نہ ہو

میرا دکھ بانٹے گا میرا سارا گاؤں

غمگین اس بارے میں تو بیکار نہ ہو

Tuesday, 12 July 2022

گماں یہ تھا محبت آفریں ہوں

گماں یہ تھا محبت آفریں ہوں

مگر افسوس میں ایسا نہیں ہوں

مجھے امشب دیارِ یار لے چل

ندیما! میں بہت اندوہ گیں ہوں

مجھے دکھ جھیلنے کا حوصلہ ہے

مِرے عیسیٰ! میں فرزندِ زمیں ہوں