گماں یہ تھا محبت آفریں ہوں
مگر افسوس میں ایسا نہیں ہوں
مجھے امشب دیارِ یار لے چل
ندیما! میں بہت اندوہ گیں ہوں
مجھے دکھ جھیلنے کا حوصلہ ہے
مِرے عیسیٰ! میں فرزندِ زمیں ہوں
مجھے منظر سے ہٹ جانے کا کہ دو
میں کردار اضافی ہوں، نہیں ہوں
مجھے نفرت ہے جھوٹی بوتلوں سے
میں ان کو دیکھتا تک بھی نہیں ہوں
مِرا مقسوم ہے تو بالیقیں ہے
تِرا مقسوم ہوں میں، بالیقیں ہوں
کمائے کون اک لمحے میں مجھ کو
ریاضت سے ملوں داغِ جبیں ہوں
فیاض بوستان
No comments:
Post a Comment