Tuesday, 12 July 2022

ہمرہی تو مری دو گام نہیں کر سکتا

 ہمرہی تُو مِری دو گام نہیں کر سکتا

سو تِرے شہر میں آرام نہیں کر سکتا 

مجھ کو جھیلے گا مِرے جیسا ہی پامال بدن

کام یہ خاص کوئی عام نہیں کر سکتا

لوگ کرتے ہیں تہِ عشق میں جانے کیا کیا

تُو مِرے نام کوئی شام نہیں کر سکتا؟

ایک تو عشق کروں، دوسرا مزدوری بھی

ایک ہی وقت میں دو کام نہیں کر سکتا

نام لیتے ہیں تِرا لوگ، تو ہو جاتا ہوں 

مجھ کو ہر شخص تو اب رام نہیں کر سکتا

ان طلسماتی اشاروں کو نہیں مانوں گا

وہ ٹریفک کو اگر جام نہیں کر سکتا

میرا ہو جائے تو پھر ٹھیک ہے ورنہ انجم

عزتِ نفس کو نیلام نہیں کر سکتا


منیر انجم

No comments:

Post a Comment