کھوئی کھوئی رات
نگاہوں سے اوجھل رہو تم
ہزاروں پردوں کے پیچھے غائب ہو جاؤ
اور دل میں
ایسا سناٹا چھا جائے
جیسا جنازہ نکلنے کے بعد
کھوئی کھوئی رات
نگاہوں سے اوجھل رہو تم
ہزاروں پردوں کے پیچھے غائب ہو جاؤ
اور دل میں
ایسا سناٹا چھا جائے
جیسا جنازہ نکلنے کے بعد
کبھی کبھی
کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے
کہ دوستی کے سب روپہلے رشتے
پیار کے سارے سنہرے بندھن
سوکھی ٹہنیوں کی طرح
چٹخ کر ٹوٹ نہ جائیں
پرانا باغ
کیسا سناٹا ہے یا رب
اور کیسی تلملاتی مضطرب تنہائی ہے
آوازیں آتی ہیں، لیکن
ملی جلی
اونچی نیچی
تصویریں
یک رنگ میں سیکڑوں رنگ ہوتے ہیں
ہلکے، گہرے، مدھم شفاف
روشنیوں سے بھرے، چمکتے، جگمگاتے
سُرمئی ابریشمی نقابیں ڈالے
گُھلے ملے
محبت کی موت
تم نے محبت کو مرتے دیکھا ہے؟
چمکتی ہنستی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں
دل کے دالانوں میں پریشان گرم لو کے جھکڑ چلتے ہیں
گلابی احساس کے بہتے ہوئے خشک
اور لگتا ہے جیسے