Showing posts with label سجاد ظہیر. Show all posts
Showing posts with label سجاد ظہیر. Show all posts

Monday, 21 February 2022

کھوئی کھوئی رات نگاہوں سے اوجھل رہو تم

 کھوئی کھوئی رات


نگاہوں سے اوجھل رہو تم

ہزاروں پردوں کے پیچھے غائب ہو جاؤ

اور دل میں

ایسا سناٹا چھا جائے

جیسا جنازہ نکلنے کے بعد

Monday, 20 December 2021

کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے

 کبھی کبھی


کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے 

کہ دوستی کے سب روپہلے رشتے 

پیار کے سارے سنہرے بندھن 

سوکھی ٹہنیوں کی طرح 

چٹخ کر ٹوٹ نہ جائیں 

Thursday, 9 December 2021

کیسا سناٹا ہے یا رب

 پرانا باغ


کیسا سناٹا ہے یا رب

اور کیسی تلملاتی مضطرب تنہائی ہے

آوازیں آتی ہیں، لیکن

ملی جلی

اونچی نیچی

Wednesday, 8 December 2021

یک رنگ میں سیکڑوں رنگ ہوتے ہیں

 تصویریں


یک رنگ میں سیکڑوں رنگ ہوتے ہیں

ہلکے، گہرے، مدھم شفاف 

روشنیوں سے بھرے، چمکتے، جگمگاتے 

سُرمئی ابریشمی نقابیں ڈالے 

گُھلے ملے 

Sunday, 27 June 2021

تم نے محبت کو مرتے دیکھا ہے

 محبت کی موت


تم نے محبت کو مرتے دیکھا ہے؟

چمکتی ہنستی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں

دل کے دالانوں میں پریشان گرم لو کے جھکڑ چلتے ہیں

گلابی احساس کے بہتے ہوئے خشک

اور لگتا ہے جیسے