Monday, 20 December 2021

کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے

 کبھی کبھی


کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے 

کہ دوستی کے سب روپہلے رشتے 

پیار کے سارے سنہرے بندھن 

سوکھی ٹہنیوں کی طرح 

چٹخ کر ٹوٹ نہ جائیں 

آنکھیں کھلیں، بند ہوں دیکھیں 

لیکن باتیں کرنا چھوڑ دیں 

ہاتھ کام کریں 

انگلیاں دنیا بھر کے قضیے لکھیں 

مگر پھول جیسے بچوں کے 

ڈگمگاتے چھوٹے چھوٹے پیروں کو 

سہارا دینا بھول جائیں 

اور سہانی شبنمی راتوں میں 

جب روشنیاں گل ہو جائیں 

تارے موتیا چمیلی کی طرح مہکیں 

پریت کی ریت 

نبھائی نہ جائے 

دلوں میں کٹھورتا گھر کر لے 

من کے چنچل سوتے سوکھ جائیں 

یہی موت ہے

اس دوسری سے 

بہت زیادہ بری 

جس پر سب آنسو بہاتے ہیں 

ارتھی اٹھتی ہے 

چتا سلگتی ہے 

قبروں پر پھول چڑھائے جاتے ہیں 

چراغ جلتے ہیں 

لیکن یہ، یہ تو 

تنہائی کے بھیانک مقبرے ہیں 

دائمی قید ہے 

جس کے گول گنبد سے 

اپنی چیخوں کی بھی 

بازگشت نہیں آتی 

کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے


سجاد ظہیر 

No comments:

Post a Comment