Monday, 20 December 2021

درد چپ چاپ اتر آیا ہے

 درد


سرسراہٹ ہے

نہ آہٹ ہے

نہ ہلچل

نہ چبھن

درد چپ چاپ

کسی دھیمی ندی کی صورت

سانس لیتی ہوئی

گانٹھوں میں

اتر آیا ہے

کتنے برسوں کی

ریاضت سے

ہنر مندی سے

ایسے بکھرے ہوئے

ریشوں کو سمیٹا ہے مگر

اور ہر بار

ہر اک بار

بہت جتنوں سے

جسم کو جان سے

جوڑا ہے مگر

بے سبب سانس کی کٹتی ڈوری

کب سے تھامے ہوئے

بیٹھے ہیں مگر

آج نہیں

یا کہیں درد تھمے

اور سکوں مل جائے

یا کوئی گانٹھ کھلے

اور قرار آ جائے


گلناز کوثر

No comments:

Post a Comment