میں جی لوں اس کے بِن مجھ سے یہ ہمت بھی نہیں ہوتی
مجھے تو اب کسی اپنے کی عادت بھی نہیں ہوتی
ہے سوچا بارہا اس کو بتا دوں، پیار کا اپنے
مگر جب سامنے ہو وہ تو جرأت بھی نہیں ہوتی
تعجب ہے کہ اب وہ جان دینے کا نہیں کہتا
تعجب ہے کہ اس کو یہ ضرورت بھی نہیں ہوتی
نہیں آتا دریچے میں ستمگر جان کا دشمن
سو میری اب تو مدت سے عبادت بھی نہیں ہوتی
پرائے دیس میں جب سے گیا وہ، بات کچھ یوں ہے
مِری آنکھوں کی برسوں سے تراوت بھی نہیں ہوتی
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment