ایک صفحہ پڑھ لیا تھا جنوں کی کتاب کا
اب تک خِرد کو ہوش نہیں ہے جواب کا
دم بھر میں جزوِ موجۂ گرداب آشنا
دم بھر کو ہے بھنور میں سفینہ حباب کا
کلیاں کِھلیں، پھوار پڑی، پھول ہنس پڑے
تھا تذکرہ چمن میں تمہارے شباب کا
ہم نے جو حرفِ راز سرِ دار کہہ دیا
دیباچہ بن گیا ہے وفا کی کتاب کا
چہرہ سفید صبح کا کچھ بے سبب نہیں
شرمندہ داغِ دل سے ہے داغ آفتاب کا
موقوف ایک حشر پہ دل کی مراد تھی
اب ہوش ہی کسے ہے عذاب و ثواب کا
آہنگِ آشنائے طلوع و غروب ہوں
سُنتا ہوں صبح و شام گجر انقلاب کا
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment