Monday, 20 December 2021

تھک گیا ہوں میں اکیلا سا ستارہ تیرا

 تھک گیا ہوں میں اکیلا سا ستارا تیرا

دور کتنا ہے ابھی رات!! کنارا تیرا

ایک بارش تِرے احسان کی کافی ہے مجھے

میں جو پھرتا ہوں سمیٹے ہوئے گارا تیرا

آئینہ ٹوٹے گا اک روز یہ کہہ کر مجھ سے

اب نہ ہو گا کبھی دیدار دوبارا تیرا

رات بھر جاگتی رہتی ہے مِری بے خوابی

لوٹ کر آیا نہیں خواب نظارا تیرا

دور ہلتے ہیں کسی سایۂ امید کے ہاتھ

جانے کس دشت میں مارے گا اشارا تیرا


افتخار بخاری

No comments:

Post a Comment