Showing posts with label عمران شریف. Show all posts
Showing posts with label عمران شریف. Show all posts

Tuesday, 3 February 2026

یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں

پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں

کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی

کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں

وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو

وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں

Sunday, 3 August 2025

آپ کی ذات ہے مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپ کی ذات ہے مدینے میں 

جو بڑی بات ہے مدینے میں

جو میسر نہیں قرار یہاں 

اس کی بہتات ہے مدینے میں

جس میں ہر خواب پورا ہوتا ہے 

وہ حسیں رات ہے مدینے میں

Tuesday, 25 March 2025

وسعتِ خیر ہے اتنی نہ سنبھالی جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وسعتِ خیر ہے اتنی نہ سنبھالی جائے 

بانٹتا جائے جدھر انؐ کا سوالی جائے

ان سے الفت کے سبب چن دیا جاؤں جس میں

رب وہ رحمت بھری دیوار بنا لی جائے

رہے پوروں پہ سدا صلی علیٰ کی تسبیح

 کہ کفن میں بھی مِرا ہاتھ نہ خالی جائے

Thursday, 6 February 2025

درِ محبوب سے کچھ خاک اٹھا لایا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


درِ محبوبﷺ سے کچھ خاک اٹھا لایا ہوں

ساری دنیا کو میں مُٹھی میں سما لایا ہوں

جس کی گلیوں سے گزرتے رہے میری سرکارؐ

اپنی آنکھوں میں وہ شہر بسا لایا ہوں

اب ہوا نُور علیٰ نُور مِرے دل کا جہاں

اب مدینے کے قمرؐ سے میں جلا لایا ہوں

Friday, 31 January 2025

دلاسہ دیتے ہیں آقا اداس لوگوں کو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دلاسہ دیتے ہیں آقاﷺ اداس لوگوں کو

بلا کے دور سے وہ اپنے پاس لوگوں کو

بس ایک اسم نے چہروں کو نور بانٹا ھے

عجب وگرنہ تھا خوف و ہراس لوگوں کو

حضورِ آئے تو پوری ہوئی ہر اک خواہش 

کئی یُگوں سے تھی اُمید، آس لوگوں کو

Friday, 4 October 2024

اک حرف کرم فرد سیہ کار میں آوے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اک حرفِ کرم فردِ سیہ کار میں آوے

کہ جان گئی پھر سے گنہگار میں آوے

بھولے سے نہ چھوٹے درِ سرکار خدایا

ایسی تِری قدرت یدِ لاچار میں آوے

اس در کی گدائی مِرا بن جائے مقدر

 دنیا کسی دنیا کے طلبگار میں آوے

Tuesday, 1 October 2024

سلگ رہا ہے شب و روز میرے سینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سلگ رہا ہے شب و روز میرے سینے میں

وہ زخم جس کی شفا ہے فقط مدینے میں

غمِ حسینؑ کی نسبت سے فیض یاب ہے آنکھ 

یہ رزقِ گریہ سبب ہے خوشی کا جینے میں

میں بے کنار کنارے کی جستجو میں حضورؐ 

نہ ڈوب جاؤں کہیں صبر کے سفینے میں