عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں
پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں
کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی
کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں
وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو
وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں
پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں
کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی
کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں
وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو
وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپ کی ذات ہے مدینے میں
جو بڑی بات ہے مدینے میں
جو میسر نہیں قرار یہاں
اس کی بہتات ہے مدینے میں
جس میں ہر خواب پورا ہوتا ہے
وہ حسیں رات ہے مدینے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وسعتِ خیر ہے اتنی نہ سنبھالی جائے
بانٹتا جائے جدھر انؐ کا سوالی جائے
ان سے الفت کے سبب چن دیا جاؤں جس میں
رب وہ رحمت بھری دیوار بنا لی جائے
رہے پوروں پہ سدا صلی علیٰ کی تسبیح
کہ کفن میں بھی مِرا ہاتھ نہ خالی جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
درِ محبوبﷺ سے کچھ خاک اٹھا لایا ہوں
ساری دنیا کو میں مُٹھی میں سما لایا ہوں
جس کی گلیوں سے گزرتے رہے میری سرکارؐ
اپنی آنکھوں میں وہ شہر بسا لایا ہوں
اب ہوا نُور علیٰ نُور مِرے دل کا جہاں
اب مدینے کے قمرؐ سے میں جلا لایا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دلاسہ دیتے ہیں آقاﷺ اداس لوگوں کو
بلا کے دور سے وہ اپنے پاس لوگوں کو
بس ایک اسم نے چہروں کو نور بانٹا ھے
عجب وگرنہ تھا خوف و ہراس لوگوں کو
حضورِ آئے تو پوری ہوئی ہر اک خواہش
کئی یُگوں سے تھی اُمید، آس لوگوں کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک حرفِ کرم فردِ سیہ کار میں آوے
کہ جان گئی پھر سے گنہگار میں آوے
بھولے سے نہ چھوٹے درِ سرکار خدایا
ایسی تِری قدرت یدِ لاچار میں آوے
اس در کی گدائی مِرا بن جائے مقدر
دنیا کسی دنیا کے طلبگار میں آوے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلگ رہا ہے شب و روز میرے سینے میں
وہ زخم جس کی شفا ہے فقط مدینے میں
غمِ حسینؑ کی نسبت سے فیض یاب ہے آنکھ
یہ رزقِ گریہ سبب ہے خوشی کا جینے میں
میں بے کنار کنارے کی جستجو میں حضورؐ
نہ ڈوب جاؤں کہیں صبر کے سفینے میں