Sunday, 2 August 2026

ہے نام تو خورشید خاں کہتے ہیں سب جلدی میاں

 جلدی میاں


ہے نام تو خورشید خاں

کہتے ہیں سب جلدی میاں

ہر کام میں گڑبڑ کریں

کمروں میں وہ کھڑبڑ کریں

ہیں دیر سے وہ جاگتے

اسکول جائیں بھاگتے

استاد جب پوچھیں سوال

ہو جائیں فوراً وہ نڈھال

باتوں کا ان کو شوق ہے

کشتی کا بھی کچھ ذوق ہے

عاشق ہیں وہ فٹ بال کے

دشمن ہیں روٹی دال کے

حلوہ مگر مرغوب ہے

اور چائے بھی محبوب ہے

ایک دن وہ جلدی میں چلے

دیکھا نہیں تھا سامنے

کیلے کا چھلکا تھا پڑا

اس پر جو پاؤں رکھ دیا

پھسلے چنانچہ گر پڑے

اور درد سے رونے لگے

ماں نے اٹھایا پیار سے

بہلایا پھر چمکار کے

جلدی میاں جب چپ ہوئے

امی لگیں یہ پوچھنے

چھلکا یہ پھینکا کس نے یاں

سوجھیں کسے نادانیاں

جلدی میاں کا سر جھکا

تالا تھا منہ پر اک لگا

جاتا نہ تھا ان سے کہا

چھلکا تو پھینکا میں نے تھا


کلیم چغتائی​

No comments:

Post a Comment