آج کی رات انمول سوغات ہو گئی
میرے بِچھڑے بابا سے
میری خواب میں ہی ملاقات ہو گئی
ان کو دیکھا، انہیں چھُوا
میرے بابا کی شفقت کی برسات ہو گئی
ہائے بچھڑنے والوں سے اک دن مُلاقات ہونی ہی چاہیے
کیسے کٹتی ہے
ان کے بنا
تنہاٸیوں کی بات ہونی ہی چاہیے
خواب تھا پل بھر میں ٹُوٹ گیا
میرے سارے دن کا چین لُوٹ گیا
ابھی تو کندھے سے لگ کر رونا تھا
کیسے تڑپتی ہوں
کیسے بکھرتی ہوں
سب بتانا تھا
کہنا تھا بابا میں کھلونے کے لیے نہیں روتی
اب تو جِینا بھی رُلاتا ہے
بِن بابا کے بہت مُشکل جِیا جاتا ہے
شبنم مرزا
No comments:
Post a Comment