Thursday, 27 August 2026

مجھ پر بھی بے اثر تھا اجالا کبھی کبھی

 مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی

مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی

بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا

وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی

سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا

ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی

جو جسم کے سبب ہی نمُودار بھی ہُوا

لگتا ہے اجنبی وہی سایہ کبھی کبھی

پہلو میں اپنے بیٹھ کے دُنیا کو بھُول کر

فُرصت سے اپنے آپ کو دیکھا کبھی کبھی

تبدیلئ فضا کے لیے میں بھی اے نہال

جاتا ہوں شہر چھوڑ کے صحرا کبھی کبھی


نہال انصاری

No comments:

Post a Comment