نظر کو چار کرنے کا کرو پہلے ہُنر پیدا
بہت مُشکل سے ہوتی ہے محبت کی ڈگر پیدا
کئی تعویذ لکھوائے، دِئیے نذرانے کِتنوں کو
بڑی منت سماجت پر ہوا لختِ جگر پیدا
ہزاروں ناز نخرے بیویوں کے سہنے پڑتے ہیں
کبھی ہوتا ہے دردِ سر، کبھی دردِ کمر پیدا
چمکتے دیکھ کر آئینے میں چاندی سے بالوں کو
کہا لڑکی نے یا رب کر دے اب میرا بھی بر پیدا
ہجومِ بیکراں گلیوں میں ہو گا چونچ بازی سے
"اگر شوقِ تماشہ ہو تو کر تابِ نظر پیدا"
چونچ گیاوی
No comments:
Post a Comment