Sunday, 30 August 2026

پانی سے کب پیاس بجھائی جا سکتی ہے

 پانی سے کب پیاس بُجھائی جا سکتی ہے

دریا کو یہ بات بتائی جا سکتی ہے

اُس کو لایا جا سکتا ہے جنگل میں

پیڑوں کی توقیر بڑھائی جا سکتی ہے

پھولوں سے ہی دل کی باتیں کیا کرنا

خُوشبُو بھی ہمراز بنائی جا سکتی ہے

صحرا سے گر رشتہ ٹُوٹ بھی جائے تو

اپنے اندر خاک اُڑائی جا سکتی ہے

کھول کے اک دن دل کے البم کو نعمان

اس کی یاد سے گرد ہٹائی جا سکتی ہے


نعمان فاروق

No comments:

Post a Comment