اسیرِ بے زباں
میں اپنے ہی تلاطم کا
اسیرِ بے زباں بن کر
کسی ایسے کنارے کی
مسلسل جستجو میں ہوں
جہاں دل کی جراحت پر
کوئی تہمت نہ دھرتا ہو
جہاں حق بات کہنے پر
کوئی مقتل نہ سجتا ہو
جہاں تہذیب کا نوحہ
نہ ہو قدروں کی پامالی
خدا کے نام لیوا بھی
خدا سے کچھ تو ڈرتے ہوں
مگر افسوس ہے مجھ کو
میں اس بستی کا باسی ہوں
جہاں منبر پہ بیٹھے
سامری کے جانشینوں نے
ضمیروں کی تجارت کو
شریعت کا لقب دے کر
مِری بستی کے یوسف کو
ٹکے کے دام بیچا ہے
بصد حسرت ہے، اے سالک
میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتا
یوں چپ رہ بھی نہیں سکتا
سو اِس کربِ مسلسل میں
سُلگتی خامشی اوڑھے
دلِ مجروح کو اپنے
تسلی یوں ہی دیتا ہوں
کہ مقتل کی یہ خاموشی
کبھی تو رنگ لائے گی
سحر کی کوکھ سے اک دن
نیا سُورج جنم لے گا
ابھی تیور زمانے کے
بہت سنگین ہیں لیکن
زمانے نے یہ دیکھا ہے
سمے اک سا نہیں رہتا
سمے اک سا نہیں رہتا
محمد عمیر سالک
No comments:
Post a Comment