Thursday, 13 August 2026

ہر تار نفس شعلہ بدل شعلہ بجاں ہے

 ہر تار نفس شعلہ بدل، شعلہ بجاں ہے

اب دل کے دھڑکنے کا وہ انداز کہاں ہے

جلتے ہوئے صحرا میں ہیں کس کس کو صدا دیں

آواز کی شبنم ہے، نہ چشمِ نگراں ہے

یاں طنز کے پتھر ہیں فقط دستِ ہوس میں

اور حُسنِ سخن کارگہِ شیشہ گراں ہے

سب ریت کی دیوار کا لیتے ہیں سہارا

کیا لوگ ہیں، کیا رِیت ہے، کیا رسمِ فُغاں ہے

کس موڑ پہ پہنچا دیا اربابِ خِرد نے

میخانے میں رہیے بھی تو اندیشۂ جاں ہے

آئینۂ غم میں ہیں وقار اب بھی وہ شکلیں

دل آج بھی وارفتۂ اندازِ بُتاں ہے


وقار خلیل

No comments:

Post a Comment