Tuesday, 18 August 2026

ہنر ہے تو دل میں اتر جائیے

 سرِ دارِ اُلفت ٹھہر جائیے

حدُودِ خِرد سے گُزر جائیے

نہ کیجے گدائی درِ یار کی 

ہُنر ہے تو دل میں اُتر جائیے

وفاؤں کی قیمت نہیں جس جگہ

اُدھر مُسکرا کر مُکر جائیے

جو یُوسف نہیں وہ تو پھر کس لیے

اداؤں پہ اس کی یوں مر جائیے

حسینوں پہ مرنے سے اچھا ہے سالک

بچا کر "انا" اپنے گھر جائیے


محمد عمیر سالک

No comments:

Post a Comment