ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے
دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے
گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے
منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے
دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی
میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے
شہنائی سی احساس کی تنہائی میں گونجی
یہ کس نے صدا دی مجھے ماضی کے نگر سے
موتی سا کبھی جو تِری پلکوں پہ سجا تھا
یوں بھی نہ گرا تُو اسے اب اپنی نظر سے
بے گانگئ اہلِ وطن پوچھ نہ اکرم
ہم شہر میں اپنے ہی رہے شہر بدر سے
پیر اکرم
No comments:
Post a Comment