فضائے دشت مجھے اپنے گھر سی لگتی ہے
چٹان ریت کی دیوار و در سی لگتی ہے
تُو ڈالتا ہے مِرے سر پہ پیار سے آنچل
تو اپنی ہستی مجھے معتبر سی لگتی ہے
کچھ اس طرح مِرے گُلشن میں آگ پھیل گئی
بھرے چمن پہ کسی کی نظر سی لگتی ہے
فضائے دشت مجھے اپنے گھر سی لگتی ہے
چٹان ریت کی دیوار و در سی لگتی ہے
تُو ڈالتا ہے مِرے سر پہ پیار سے آنچل
تو اپنی ہستی مجھے معتبر سی لگتی ہے
کچھ اس طرح مِرے گُلشن میں آگ پھیل گئی
بھرے چمن پہ کسی کی نظر سی لگتی ہے
داستاں در داستاں جلتا رہا
شہرِ جاں شہرِ اماں جلتا رہا
تیرگی میں روشنی ہوتی رہی
روشنی کا اک جہاں جلتا رہا
رات کی رانی کی خُوشبو بُجھ گئی
خُوشبوؤں کا کارواں جلتا رہا
وقت دانائیِ فن مانگتا ہے
اک نیا طرزِ سخن مانگتا ہے
مرہمِ زخمِ جگر دے کر وہ
مجھ سے گُلرنگِ چمن مانگتا ہے
صرف اک شب کی مسافت کے عِوض
کتنی صدیوں کی تھکن مانگتا ہے
سوال کرتے ہیں چہرے تمہاری ماؤں کے
کہاں گئے جو محافظ تھے ان رداؤں کے؟
میں اب کے سال بڑی آفتوں کی زد پر ہوں
حصار ٹوٹ رہے ہیں مِری دعاؤں کے
وہ جاتے جاتے بھی رستہ ہمیں بتا کے گیا
ہیں سنگِ میل کی صورت نشان پاؤں کے