لذتِ جورِ ناروا کی قسم
دل ستم دوست ہے خدا کی قسم
نہ اٹھا بارِ منتِ الفاظ
نازکی ہائے مُدعا کی قسم
نغمۂ رُوح و نالے میں
اس گدائے اثر دُعا کی قسم
لذتِ جورِ ناروا کی قسم
دل ستم دوست ہے خدا کی قسم
نہ اٹھا بارِ منتِ الفاظ
نازکی ہائے مُدعا کی قسم
نغمۂ رُوح و نالے میں
اس گدائے اثر دُعا کی قسم
چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم
کتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلوم
کل تو خیر اے رہبر تیرے ساتھ رہرو تھے
آج کس پہ ہنستی ہے گمرہی خدا معلوم
اب بھی صبح ہوتی ہے اب بھی دن نکلتا ہے
جا چھپی کہاں لیکن روشنی خدا معلوم
حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے
مکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہے
دل ہی کی خدائی ہے یہاں آج بھی اے دوست
پابند نظر کیف کی دنیا تو نہیں ہے
بے بہرۂ عرفان محبت ہے ازل سے
سوچا ہے تجھے عقل نے دیکھا تو نہیں ہے
طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیا
ساحل کو موج موج کو ساحل بنا گیا
منہ تکتے تکتے تھک گئیں حرماں نصیبیاں
ہر انقلاب شوق کی ہمت بڑھا گیا
ذوق نظر کی جرأت بے باک الاماں
رنگ حیات بن کے فضاؤں پہ چھا گیا
وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیں
ہم موت کے منہ میں ہیں نشیمن میں نہیں ہیں
یہ جشن طرب اور یہ بے رنگیٔ محفل
دو پھول بھی کیا وقت کے دامن میں نہیں ہیں
چھپ چھپ کے کسے برق ہوس ڈھونڈھ رہی ہے
گنتی کے وہ خوشے بھی تو خرمن میں نہیں ہیں