Showing posts with label یعقوب عثمانی. Show all posts
Showing posts with label یعقوب عثمانی. Show all posts

Thursday, 23 July 2026

لذت جور ناروا کی قسم

 لذتِ جورِ ناروا کی قسم

دل ستم دوست ہے خدا کی قسم

نہ اٹھا بارِ منتِ الفاظ

نازکی ہائے مُدعا کی قسم

نغمۂ رُوح و نالے میں

اس گدائے اثر دُعا کی قسم

Wednesday, 25 February 2026

چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم

 چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم

کتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلوم

کل تو خیر اے رہبر تیرے ساتھ رہرو تھے

آج کس پہ ہنستی ہے گمرہی خدا معلوم

اب بھی صبح ہوتی ہے اب بھی دن نکلتا ہے

جا چھپی کہاں لیکن روشنی خدا معلوم

Saturday, 10 August 2024

حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے

 حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے

مکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہے

دل ہی کی خدائی ہے یہاں آج بھی اے دوست

پابند نظر کیف کی دنیا تو نہیں ہے

بے بہرۂ عرفان محبت ہے ازل سے

سوچا ہے تجھے عقل نے دیکھا تو نہیں ہے

Thursday, 14 October 2021

طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیا

طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیا

ساحل کو موج موج کو ساحل بنا گیا

منہ تکتے تکتے تھک گئیں حرماں نصیبیاں

ہر انقلاب شوق کی ہمت بڑھا گیا

ذوق نظر کی جرأت بے باک الاماں

رنگ حیات بن کے فضاؤں پہ چھا گیا

Monday, 28 June 2021

وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیں

وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیں

ہم موت کے منہ میں ہیں نشیمن میں نہیں ہیں

یہ جشن طرب اور یہ بے رنگیٔ محفل

دو پھول بھی کیا وقت کے دامن میں نہیں ہیں

چھپ چھپ کے کسے برق ہوس ڈھونڈھ رہی ہے

گنتی کے وہ خوشے بھی تو خرمن میں نہیں ہیں