Showing posts with label کامران ندیم. Show all posts
Showing posts with label کامران ندیم. Show all posts

Monday, 6 March 2023

نظر تک آیا ہے پہچان تک نہیں آیا

 نظر تک آیا ہے پہچان تک نہیں آیا 

یہ واہمہ ابھی امکان تک نہیں آیا 

جراحت غم دوراں کی ابتداء کہیۓ 

دلِ جہاں زدہ، پیکان تک نہیں آیا 

وہ اور بات کہ جاں کی امان مانگی تھی 

میں اس کی بیعت و پیمان تک نہیں آیا 

Monday, 26 April 2021

خرابہ اور ہوتا ہے خراب آہستہ آہستہ

 خرابہ اور ہوتا ہے خراب آہستہ آہستہ

دیار دل پہ آتے ہیں عذاب آہستہ آہستہ

سوال وحشت جاں کے جواب آہستہ آہستہ

بت کافر اٹھاتے ہیں نقاب آہستہ آہستہ

کوئی دستِ حنائی مؤقلم سے بھرتا جاتا ہے

نگارِ شام میں رنگ شراب، آہستہ آہستہ

Tuesday, 13 April 2021

سپردگی کا ولولہ جمال میں نہیں ملا

 سپردگی کا ولولہ جمال میں نہیں مِلا

مجھے فسونِ بیخودی وصال میں نہیں ملا

جو آئینے سے کرچیوں کے درمیاں کا تھا سفر

شکستِ ذات کی کسی مثال میں نہیں ملا

الم نصیب شام میں ہے مہرِ جاں بجھا بجھا

نشاطِ رنج بھی مجھے مآل میں نہیں ملا

ردائے جان پہ دہرا عذاب بنتا ہوں

 ردائے جان پہ دہرا عذاب بنتا ہوں

میں روز جاگتی آنکھوں میں خواب بنتا ہوں

خیالِ حسن کی مخمل پہ تارِ امکاں سے

کبھی گُلاب، کبھی ماہتاب بنتا ہوں

غبارِ خاطرِ پیہم سے بُجھ بھی جاؤں اگر

شبِ سیہ میں کوئی آفتاب بنتا ہوں

Monday, 12 April 2021

پھر چھلکتا ہے جام وحشت کا

 پھر چھلکتا ہے جام وحشت کا

شاہِ خُوباں! سلام وحشت کا

ایک چشمِ غزال کرتی ہے

چار سُو اہتمام وحشت کا

وہ گراں گوش ہو ہمہ تن گوش

تو سناؤں کلام وحشت کا

کس قدر تیز ہوا ہے باہر

 کس قدر تیز ہوا ہے باہر

ایک طوفان بپا ہے باہر

شہر زنجیر زنی کرتا ہے

اک عجب کرب و بلا باہر

خواب اک اور تسلسل کا اسیر

رات کا رنگ جدا ہے باہر