نظر تک آیا ہے پہچان تک نہیں آیا
یہ واہمہ ابھی امکان تک نہیں آیا
جراحت غم دوراں کی ابتداء کہیۓ
دلِ جہاں زدہ، پیکان تک نہیں آیا
وہ اور بات کہ جاں کی امان مانگی تھی
میں اس کی بیعت و پیمان تک نہیں آیا
نظر تک آیا ہے پہچان تک نہیں آیا
یہ واہمہ ابھی امکان تک نہیں آیا
جراحت غم دوراں کی ابتداء کہیۓ
دلِ جہاں زدہ، پیکان تک نہیں آیا
وہ اور بات کہ جاں کی امان مانگی تھی
میں اس کی بیعت و پیمان تک نہیں آیا
خرابہ اور ہوتا ہے خراب آہستہ آہستہ
دیار دل پہ آتے ہیں عذاب آہستہ آہستہ
سوال وحشت جاں کے جواب آہستہ آہستہ
بت کافر اٹھاتے ہیں نقاب آہستہ آہستہ
کوئی دستِ حنائی مؤقلم سے بھرتا جاتا ہے
نگارِ شام میں رنگ شراب، آہستہ آہستہ
سپردگی کا ولولہ جمال میں نہیں مِلا
مجھے فسونِ بیخودی وصال میں نہیں ملا
جو آئینے سے کرچیوں کے درمیاں کا تھا سفر
شکستِ ذات کی کسی مثال میں نہیں ملا
الم نصیب شام میں ہے مہرِ جاں بجھا بجھا
نشاطِ رنج بھی مجھے مآل میں نہیں ملا
ردائے جان پہ دہرا عذاب بنتا ہوں
میں روز جاگتی آنکھوں میں خواب بنتا ہوں
خیالِ حسن کی مخمل پہ تارِ امکاں سے
کبھی گُلاب، کبھی ماہتاب بنتا ہوں
غبارِ خاطرِ پیہم سے بُجھ بھی جاؤں اگر
شبِ سیہ میں کوئی آفتاب بنتا ہوں
پھر چھلکتا ہے جام وحشت کا
شاہِ خُوباں! سلام وحشت کا
ایک چشمِ غزال کرتی ہے
چار سُو اہتمام وحشت کا
وہ گراں گوش ہو ہمہ تن گوش
تو سناؤں کلام وحشت کا
کس قدر تیز ہوا ہے باہر
ایک طوفان بپا ہے باہر
شہر زنجیر زنی کرتا ہے
اک عجب کرب و بلا باہر
خواب اک اور تسلسل کا اسیر
رات کا رنگ جدا ہے باہر