پھر چھلکتا ہے جام وحشت کا
شاہِ خُوباں! سلام وحشت کا
ایک چشمِ غزال کرتی ہے
چار سُو اہتمام وحشت کا
وہ گراں گوش ہو ہمہ تن گوش
تو سناؤں کلام وحشت کا
چاک ہے اب تِرا گریباں بھی
دیکھ لے انتقام وحشت کا
موجِ حیرت سفر میں رکھتی ہے
ڈھونڈھتا ہوں قیام وحشت کا
کامران ندیم
No comments:
Post a Comment