کیا کہوں منزلوں کے جذبوں کی
گرد بیٹھی ہوئی ہے راہوں کی
فصلِ گُل تُو ذرا خبر رکھنا
شاخچوں اور خزاں کے رازوں کی
ان کہی کا وبال کیا کہیے
جستجو ہر گھڑی ہے شعروں کی
میں نبرد آزما حقیقت سے
“آپ کرتے ہیں بات خوابوں کی”
میرے دشتِ جنوں کو لازم ہے
کوئی دھوکہ دہی سرابوں کی
کس محبت کا بیج بویا تھا؟
فصل اُگنے لگی ہے کانٹوں کی
عشق میں تیسرا بھی شامل ہے
نئی ترتیب ہے نصابوں کی
تُو نے اک عمر منتظر رکھا
بات تھی صرف چار حرفوں کی
ہر گماں کو یقین میں ڈھالا
ہائے کیا بات تیری باتوں کی
ایک ہی تیر سے شکار کئی
داد بنتی ہے تیری گھاتوں کی
چاند کو دیکھنے کی حسرت میں
صحبتیں جھیلتے ہیں تاروں کی
میری پہچان کھو گئی مجھ سے
ہے ضرورت مجھے حوالوں کی
بشریٰ خلیل
No comments:
Post a Comment