وہ مسکرائیں میری موت پر، اُداس نہ ہوں
میں چاہتا ہوں میرے نوحہ گر اداس نہ ہوں
بھلے وہ ہونٹ مِرے نام پر لرزنے لگیں
مگر وہ آنکھیں مجھے دیکھ کر اداس نہ ہوں
وہ جن کی خاک کو گوندھا گیا ہے اشکوں سے
وہ کیسے زندہ رہیں گے اگر اداس نہ ہوں
اسے سنوارا گیا،۔ خاک پر اُتارا گیا
کہ آسمان پہ شمس و قمر اداس نہ ہوں
اکیلے کاٹ رہا ہوں میں زندگی کا سفر
یہ سوچ کر کے مِرے ہمسفر اداس نہ ہوں
خدا کرے کہ فروزاں رہیں دعا کے چراغ
خدا کرے مِری بستی کے گھراداس نہ ہوں
کبھی کبھی تو یہ بارش کا سلسلہ رک جائے
کبھی کبھی تو یہ شام و سحر اداس نہ ہوں
ہوا یہ سوچ کے رکتی ہے میری چوکھٹ پر
سکوتِ مرگ سے دیوار و در اداس نہ ہوں
گلوں سے رنگ نہ لیں خوشبوئیں کشید کریں
اداس لوگوں میں بیٹھیں، مگر اداس نہ ہوں
میں ایک زخم دکھاؤں؟ اگر برا نہ لگے
میں ایک شعر سناؤں؟ اگر اداس نہ ہوں
عدنان محسن
No comments:
Post a Comment