Monday, 12 April 2021

یہ خواب ہے کہ حقیقت خدا کسی کو نہ دے

 یہ خواب ہے کہ حقیقت خدا کسی کو نہ دے

عجیب شے ہے محبت خدا کسی کو نہ دے

ہر اک نظر کو میسر ہو آئینہ، لیکن

ملی ہے مجھ کو جو حیرت خدا کسی کو نہ دے

خوشی ملی تو اداسی سے دل کو گھیر لیا

غموں سے ایسی رفاقت خدا کسی کو نہ دے

پلٹ کے دیکھ لیا اس نے اپنے قاتل کو

کہا پھر اس نے یہ مہلت خدا کسی کو نہ دے

وصال پر بھی مجھے ہجر کا گمان ٹہرے

کسی سے اتنی محبت خدا کسی کو نہ دے

جو مجھ سے مل کے گیا پھر یہی کہا اس نے

ہے عشق ایک اذیت خدا کسی کو نہ دے

سنائی دینے لگیں دل کی دھڑکنیں ہرسو

ضیا اب ایسی بھی خلوت خدا کسی کو نہ دے


ضیاء شاہد

No comments:

Post a Comment