کچھ دن تو ساتھ ساتھ رہا پھر بچھڑ گیا
میلہ بھرا ہوا تھا،۔ اچانک اجڑ گیا
اک عمر ہو گئی ہے مجھے چھوڑتا نہیں
یہ کون ہاتھ دھو کے مِرے پیچھے پڑ گیا
باتیں تو بڑھ کے عرش کی رفعت سے جا ملیں
قد مختصر ہی رہ گئے،۔ قامت سُکڑ گیا
کچھ دن تو ساتھ ساتھ رہا پھر بچھڑ گیا
میلہ بھرا ہوا تھا،۔ اچانک اجڑ گیا
اک عمر ہو گئی ہے مجھے چھوڑتا نہیں
یہ کون ہاتھ دھو کے مِرے پیچھے پڑ گیا
باتیں تو بڑھ کے عرش کی رفعت سے جا ملیں
قد مختصر ہی رہ گئے،۔ قامت سُکڑ گیا
وہ نگر، کوچہ و بازار کہاں بُھولے ہیں
پھول بھولے ہیں کہاں، خار کہاں بھولے ہیں
ڈھلتی شاموں کی ضیا میں تِرا رستہ تکنا
سر جھکائے ہوئے اشجار کہاں بھولے ہیں
رات بھر شہر کی گلیوں میں بھٹکتے رہنا
ڈوبتے چاند کے اسرار کہاں بھولے ہیں
چین گھر میں نہیں بازار سے ڈر لگتا ہے
خبریں ایسی ہیں کہ اخبار سے ڈر لگتا ہے
دِین بِکتا ہے تو دِیندار سے ڈر سے لگتا ہے
اب ہمیں جبہ و دستار سے ڈر لگتا ہے
آپ کے قول سنہرے سبھی سر آنکھوں پر
کیا کروں آپ کے کردار سے ڈر لگتا ہے
شام تھی، شام کے اُجالے تھے
اور ہم تم بِچھڑنے والے تھے
جس کی تعبیر اک جہنم تھا
ایسی جنت کے خواب پالے تھے
خونِ دل دے کے جن کو سینچا گیا
جانے وہ خار تھے، یا لالے تھے
زخم رسیدہ، زہر گزیدہ، درد کا مارا رہتا ہے
اس ندی کے پاس ہی لوگو اک بنجارہ رہتا ہے
آج بھی اس بستی کی شامیں رستہ تکتی رہتی ہیں
جانے کس آکاش پہ اب وہ چاند کا تارہ رہتا ہے
اب کے برس بھی ساون بھادوں تنہا تنہا بِیت گئے
کتنے کالے کوسوں پر وہ جان سے پیارا رہتا ہے
گردشِ ماہ و سال رہنے دے
یہ عروج و زوال رہنے دے
جانے کس کس کا نام آئے گا
چل گیا کون چال، رہنے دے
وہ رُتیں اب کبھی نا لوٹیں گی
ان رُتوں کا ملال رہنے دے
جب تِرے آستاں پہ جائیں گے
آنسوؤں کے دِیے جلائیں گے
ایک خیمہ لگائیں گے غم کا
رات بھر رَت جگا منائیں گے
تم جہاں روز ملنے آتے تھے
دُکھ کی چادر وہاں بِچھائیں گے
یہاں نہیں تو یقیناً وہاں ملیں گے ہم
فنا کے بعد سرِ آسماں ملیں گے ہم
اُفق کے پار زمان و مکاں کی قید نہیں
مکاں نہیں نہ سہی لا مکاں ملیں گے ہم
نگارِ زیست کی تنگ دامنی مُسلّم ہے
نئے جنم میں کہیں جاوداں ملیں گے ہم