Showing posts with label ظہیر اقبال. Show all posts
Showing posts with label ظہیر اقبال. Show all posts

Tuesday, 21 December 2021

کچھ دن تو ساتھ ساتھ رہا پھر بچھڑ گیا

 کچھ دن تو ساتھ ساتھ رہا پھر بچھڑ گیا

میلہ بھرا ہوا تھا،۔ اچانک اجڑ گیا

اک عمر ہو گئی ہے مجھے چھوڑتا نہیں

یہ کون ہاتھ دھو کے مِرے پیچھے پڑ گیا

باتیں تو بڑھ کے عرش کی رفعت سے جا ملیں

قد مختصر ہی رہ گئے،۔ قامت سُکڑ گیا

Thursday, 4 November 2021

وہ نگر کوچہ و بازار کہاں بھولے ہیں

 وہ نگر، کوچہ و بازار کہاں بُھولے ہیں

پھول بھولے ہیں کہاں، خار کہاں بھولے ہیں

ڈھلتی شاموں کی ضیا میں تِرا رستہ تکنا

سر جھکائے ہوئے اشجار کہاں بھولے ہیں

رات بھر شہر کی گلیوں میں بھٹکتے رہنا

ڈوبتے چاند کے اسرار کہاں بھولے ہیں

Thursday, 17 June 2021

چین گھر میں نہیں بازار سے ڈر لگتا ہے

 چین گھر میں نہیں بازار سے ڈر لگتا ہے

خبریں ایسی ہیں کہ اخبار سے ڈر لگتا ہے

دِین بِکتا ہے تو دِیندار سے ڈر سے لگتا ہے

اب ہمیں جبہ و دستار سے ڈر لگتا ہے

آپ کے قول سنہرے سبھی سر آنکھوں پر

کیا کروں آپ کے کردار سے ڈر لگتا ہے

Wednesday, 5 May 2021

شام تھی شام کے اجالے تھے

 شام تھی، شام کے اُجالے تھے

اور ہم تم بِچھڑنے والے تھے

جس کی تعبیر اک جہنم تھا

ایسی جنت کے خواب پالے تھے

خونِ دل دے کے جن کو سینچا گیا

جانے وہ خار تھے، یا لالے تھے

Tuesday, 4 May 2021

زخم رسیدہ زہر گزیدہ درد کا مارا رہتا ہے

 زخم رسیدہ، زہر گزیدہ، درد کا مارا رہتا ہے

اس ندی کے پاس ہی لوگو اک بنجارہ رہتا ہے

آج بھی اس بستی کی شامیں رستہ تکتی رہتی ہیں

جانے کس آکاش پہ اب وہ چاند کا تارہ رہتا ہے

اب کے برس بھی ساون بھادوں تنہا تنہا بِیت گئے

کتنے کالے کوسوں پر وہ جان سے پیارا رہتا ہے

Monday, 3 May 2021

گردش ماہ و سال رہنے دے

 گردشِ ماہ و سال رہنے دے

یہ عروج و زوال رہنے دے

جانے کس کس کا نام آئے گا

چل گیا کون چال، رہنے دے

وہ رُتیں اب کبھی نا لوٹیں گی

ان رُتوں کا ملال رہنے دے

جب ترے آستاں پہ جائیں گے

 جب تِرے آستاں پہ جائیں گے

آنسوؤں کے دِیے جلائیں گے

ایک خیمہ لگائیں گے غم کا

رات بھر رَت جگا منائیں گے

تم جہاں روز ملنے آتے تھے

دُکھ کی چادر وہاں بِچھائیں گے

یہاں نہیں تو یقیناً وہاں ملیں گے ہم

 یہاں نہیں تو یقیناً وہاں ملیں گے ہم

فنا کے بعد سرِ آسماں ملیں گے ہم

اُفق کے پار زمان و مکاں کی قید نہیں

مکاں نہیں نہ سہی لا مکاں ملیں گے ہم

نگارِ زیست کی تنگ دامنی مُسلّم ہے

نئے جنم میں کہیں جاوداں ملیں گے ہم