Monday, 3 May 2021

جب ترے آستاں پہ جائیں گے

 جب تِرے آستاں پہ جائیں گے

آنسوؤں کے دِیے جلائیں گے

ایک خیمہ لگائیں گے غم کا

رات بھر رَت جگا منائیں گے

تم جہاں روز ملنے آتے تھے

دُکھ کی چادر وہاں بِچھائیں گے

ساری بستی بھی سو نہ پائے گی

یُوں در و بام کو رُلائیں گے

اِک دوکاں درد کی خریدیں گے

خُوب جِی بھر کے رنج کمائیں گے

جانے کس کس کی یاد آئے گی

جب بھی بادل اُمنڈ کے آئیں گے

کیا خبر تھی کی ایک دِن ہم لوگ

تیری صُورت ہی بُھول جائیں گے

وہ رُتیں لَوٹ کر بھی آجائیں

جانے والے کہاں سے آئیں گے


ظہیر اقبال

No comments:

Post a Comment